دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 84 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 84

84 ۳۔صاحبزادہ مرزا احسن رضا احمد صاحب ۴۔صاحبزادہ مرز ابلال احمد صاحب ۵- ملیحہ صباحت صاحبہ بنت صاحبزادہ مرزا اسفیر احمد -۶ محترمہ صاحبزادی امتہ الرؤف صاحبه مع بچگان بنت مکرم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب ۷۔محترم سید فضل احمد صاحب سابق ڈائریکٹر جنرل پولیس بہار محترمه صوفیہ بیگم صاحبہ اہلیہ سید فضل احمد صاحب ۹ محترم سید منصور احمد صاحب ۱۰ محترم ڈاکٹر محمود احمد بٹ صاحب۔ایک مرسڈیز کار اور ایک فورڈوین پر مشتمل یہ قافلہ دہلی سے نکل کر سر ہند اور لدھیانہ سے ہوتا ہواجب جالندھر کے قریب پہنچا تو شام کے سائے گہرے ہونے لگے۔اس سفر کی روائیداد بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر محموداحمد بٹ صاحب تحریر کرتے ہیں: پنجاب کے حالات کے پیش نظر رات کو سفر جاری رکھنا مناسب نہ تھا۔لہذا دعاؤں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور اسباب کے حصول کے لئے دلوں میں تڑپ پیدا ہوئی۔جالندھر چھاؤنی کے قریب جیسے ہی بارڈرسیکیورٹی فورس BSF کا گیسٹ ہاؤس آیا محترم سید فضل احمد صاحب نے قافلہ کو رکنے کا اشارہ کیا۔اس وقت شام کے ساڑھے سات بج رہے تھے۔محترم سید فضل احمد صاحب نے BSF کے جوان کو جو ڈیوٹی پر تعینات تھے، اپنا تعارف کرایا اور وہاں کے DSP سے ٹیلیفون پر بات کر کے قافلہ کو گیسٹ ہاؤس میں قیام کرنے کی اجازت طلب کی۔اسی اثناء میں دہلی مشن ہاؤس ٹیلیفون کرنے کے لئے کہا گیا۔کیونکہ جالندھر سے قادیان بہت کوشش کے باوجود ٹیلیفون پر رابطہ قائم نہیں ہو رہا تھا۔قادیان میں حضور انور کو صورتحال سے آگاہ کر کے جالندھر رات گزارنے کی اجازت طلب کرنی تھی۔تھوڑی دیر کے بعد دہلی اور قادیان میں رابطہ قائم ہوگیا اور قادیان میں اطلاع کر دی گئی جس کے بعد قادیان سے جالندھر میں BSF کے گیسٹ ہاؤس میں رابطہ ہوا اور حضور انور کو تفصیلاً سفر کے حالات اور حضرت بیگم صاحبہ کی صحت کے بارہ میں رپورٹ دیدی گئی۔چونکہ حضرت بیگم صاحبہ کار کے لمبے سفر کی وجہ سے کافی تھکاوٹ محسوس کر رہی تھیں اسلئے حضور نے رات جالندھر ہی میں قیام کرنے کا ارشاد فرمایا۔جالندھر گیسٹ ہاؤس میں محترم فضل احمد صاحب کا خاص اثر ورسوخ تھا لیکن اس سے بڑھ