دورۂ قادیان 1991ء — Page 83
83 ہدایات دیں۔آج حضور انور سے اخبار ہند سماچار کا نمائندہ ملنے کیلئے آیا اور اپنے پاس رکھنے کے لئے آپ کی فوٹو بھی لیکر گیا۔ڈیڑھ بجے نماز ظہر و عصر حضور کی اقتداء میں مسجد اقصیٰ میں ادا کی گئیں۔فلو کی شکایت سے آپ کی طبیعت ناساز تھی جس کا اندازہ صرف آپ کے چہرے اور آواز پر اثر سے ہوتا تھا مگر کاموں کی رفتار اور تسلسل بفضلہ تعالیٰ حسب معمول تھا۔نماز مغرب وعشاء کی ادائیگی کے بعد آپ مسجد اقصیٰ میں رونق افروز ہوئے اور مجلسِ عرفان کا آغاز ہوا۔رات ساڑھے آٹھ بجے سے دس بجے تک حضور نے سرگودہا اور راولپنڈی ڈویژن کے علاقوں سے آئے ہوئے مہمانوں سے ملاقات فرمائی۔آج مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب وکیل اعلی تحریک جدیدر بوہ نے بھی اپنی فیملی کے ساتھ شرف ملاقات حاصل کیا۔حضور انور نے اُن کی بیٹی عزیزہ رضوانہ حمید کی شادی کی دعا بھی وہیں دفتر میں ہی کرائی۔عزیزہ رضوانه حمید کی شادی مکرم نثار یوسف صاحب ابن مکرم کمال یوسف صاحب سابق مبلغ سکینڈے نیویا سے طے ہوئی تھی۔حضرت سیدہ آصفہ بیگم صاحبہ کی دہلی سے قادیان آمد حضرت بیگم صاحبہ کی بیماری کے پیش نظر دہلی کے مشہور ہسپتال (سرگنگا رام ہسپتال) کے ماہر امراض شکم و جگر (Gastro Entrologist) کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔انہوں نے حضرت بیگم صاحبہ کی صحت کو قادیان کے سفر کے لئے تسلی بخش قرار نہیں دیا تھا۔لہذا آپ کو دہلی میں ہی ٹھہرنا پڑا۔حضور نے مکرم ڈاکٹرمحمود احمد بٹ صاحب ابن مکرم مولوی محمد ایوب بٹ صاحب در ولیش قادیان کو حضرت بیگم صاحبہ کی دیکھ بھال کے لئے مقرر فرمایا۔سپیشلسٹ نے تین روز کے بعد حضرت بیگم صاحبہ کی صحت کو سفر کرنے کے قابل قرار دیا تو مورخہ ۲۳ / دسمبر کو صبح ساڑھے سات بجے دعا کے بعد آپ ایک مختصر قافلہ کے ہمراہ سوئے قادیان روانہ ہوئیں۔چونکہ ٹرین اور ہوائی جہازوں میں ۲۵ / دسمبر تک سیٹیں مہیا نہ ہو سکیں اسلئے مجبور دہلی سے قادیان کا طویل سفر بذریعہ کار طے کیا گیا۔حضرت بیگم صاحبہ کے ساتھ اس قافلہ میں حسب ذیل افراد تھے:۔ا۔محترم صاحبزادہ مرزا سفیر احمد صاحب ۲- محتر مہ صاحبزادی شوکت جہاں صاحبہ