دورۂ قادیان 1991ء — Page 65
65 لئے ، غیروں کے لئے ، دوستوں کے لئے اور دشمنوں کے لئے، آزادوں کے لئے اور اسیروں کے لئے ، صحتمندوں کے لئے اور بیماروں کے لئے ، وہ جو خوش نصیب ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے دولت کی فراوانی عطا کی ہے، وہ جو غربت میں سکتے ہوئے زندگیاں بسر کر رہے ہیں جو قرضوں کے بار تلے دبے ہوئے ہیں، جو کئی قسم کے مصائب کا شکار ہیں ان سب کے لئے بھی اگر آپ دعائیں کریں گے تو وہ دعائیں زیادہ مقبول ہوں گی اور ان معنوں میں آپ بھی تو کچھ فیض رساں بن جائیں گے۔پس یہ عجیب گر ہمیں حمد وثنا اور درود نے سکھا دیا کہ تم اپنے اوپر والوں کا احسان تو نہیں اتار سکتے مگر اس احسان اتارنے کی کوشش میں اپنے نیچے والوں پر اور احسان کرتے چلے جاؤ تمہیں بھی کچھ فیض رساں ہونے کا سلیقہ عطا ہوگا تمہیں بھی لطف ملے گا کہ اگر اللہ تعالیٰ اور محمد مصطفی ﷺ کا احسان نہیں اتار سکتے تو عاجز بندوں پر کچھ احسان تو کر سکتے ہو اور خدا کے بندوں پر احسان کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ اپنے آپ کو احسان مند محسوس فرماتا ہے۔حضرت محمد مصطفی ﷺ کی امت پر احسان کرنے کے نتیجہ میں آنحضور ﷺ کی روح آپ پر رحمت اور درود بھیجے گی۔یہ ایک ہی راستہ ہے جس سے ہم کچھ احسانات کا بوجھ ہلکا کرنے کی کامیاب کوشش کر سکتے ہیں لیکن اس راستے میں داخل اسی طریق سے ہوتے ہیں جو طریق قرآن کریم نے ہمیں سکھایا جوحمد و ثنا اور درود نے ہمیں سکھایا۔پس آج کی اس محفل میں جو باتیں میں آپ کے سامنے کر رہا ہوں انہیں حرز جان بنا ئیں ان پر غور کریں ، سوتے جاگتے ، اٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے کوشش کیا کریں کہ آپ کے اخلاق کے رونما ہوتے وقت یعنی جب اخلاق کسی عمل میں ڈھل رہے ہوتے ہیں یہ دیکھا کریں کہ اس پر حضرت محمد مصطفی ﷺ کی کتنی چھاپ ہے۔اور جب آپ ایسا سوچیں گے تو اکثر صورتوں میں جہاں بھی آپ بھلائی کریں گے آپ حضرت محمد مصطفی امیہ کے زیرا احسان آرہے ہونگے۔اور اس وقت کا درود ایک خاص کیفیت کا درود ہوگا۔وہ عام حالت کا درود نہیں ہوگا۔پس درود، درود کی بھی مختلف قسمیں ہیں۔ایسا درود پڑھیں جو دل کی گہرائیوں سے تموج کی حالت میں اٹھے۔ایک موج کی صورت میں ، لہر در اہر دل سے نکلے۔وہ درود ہے جو آسمان تک پہنچتا ہے ، وہ درود ہے جو برکتیں بن کر آپ پر نازل ہوتا ہے۔پھر آپ کی دعائیں آپ کے پیاروں کے حق میں بھی سنی جائیں گی۔مجبوروں کے حق میں۔