دورۂ قادیان 1991ء — Page 64
64 پس آنحضرت یہ چشمہ فیض ہیں۔آپ کا فیض لازما لوگوں کو پہنچے گا۔کسی کا فیض آپ کو نہیں پہنچ سکتا، سوائے خدا کے۔میرے نزدیک خاتمیت کا آخری معنی یہی ہے کہ وہ فیض رساں جو ہر دوسرے کو فیض پہنچائے اور کبھی کسی سے فیض حاصل نہ کرے سوائے اس کے کہ جس کی وہ مہر ہے، جس کے ہاتھوں سے لگتی ہے۔پس کامل رسول ،سب سے کامل رسول ، اکمل رسول ، سب کا ملوں سے بڑھ کر کامل اور سب خدا رسیدہ لوگوں سے بڑھ کر خدا رسیدہ ایک ایسا رسول تھا جس کا فیض تمام نبیوں پر پھیلا ہے۔تمام بنی نوع انسان پر پھیلا ہے۔حیوانات پر پھیلا ہے۔جمادات پر پھیلا ہے۔ان کو پہنچا جو آپ کے آنے سے بہت پہلے پیدا ہوئے۔اس کا ئنات کو پہنچا جو بھی ابتدائے وجود کی حالت میں کروٹیں بدل رہی تھی۔کیونکہ آپ آخری رسول تھے اس لئے آپ مخفیض رساں ہیں لیکن تمام تر فیوض آپ نے اپنے رب سے پائے۔یہ توحید کامل ہے جس کا سمجھنا ضروری ہے اور اس کے نتیجہ میں جہاں حمد کی طرف غیر معمولی توجہ اور عارفانہ توجہ پیدا ہوتی ہے وہاں درود کی طرف بھی غیر معمولی اور عارفانہ توجہ پیدا ہوتی ہے۔پس ہم یہ مبارک ایام ان فضاؤں میں سانس لیتے ہوئے یہاں بسر کریں گے جن فضاؤں کے ساتھ ہمارا ایک گہرا جذباتی رابطہ ہے۔خواہ ہم اس فیض کو پاسکیں یا نہ پاسکیں لیکن جب ہم یہ سوچتے ہیں اور سوچیں گے کہ حضرت مسیح موعود ان فضاؤں میں سانس لیتے رہے اور آپ کے بزرگ صحابہ اور خلفاء ان فضاؤں میں سانس لیتے رہے تو باوجود اس احساس بے بسی کے ہم زبردستی اس کا فیض نہیں پاسکتے جب تک فیض پانے کی اہلیت پیدا نہ کریں۔ایک جذبات میں انگیخت تو ضرور ہوگی ، ایک لرزش پیدا ہوگی۔ایک تموج پیدا ہوگا اور تموج بھی ایک عجیب روحانی لطف پیدا کرتا ہے۔ایسی کیفیات میں درود پڑھا کریں۔ایسی کیفیات میں جو خاص تموج کی حالتیں آپ پر آنے والی ہیں اور آچکی ہونگی اور آئندہ بھی آتی چلی جائیں گی ان حالتوں میں سب سے بڑھ کر حمد باری تعالیٰ کے بعد درود پڑھنے کی ضرورت ہے۔اور یہ وہ چیز ہے جو برکتوں کی صورت میں آپ ہی پر نازل ہوگی آپ کا کسی پر کوئی احسان نہیں۔نہ حمد کا خدا تعالیٰ پر احسان ے نہ درود کا محمد مصطفی ﷺ پر احسان ہے۔یہ احسان ایسا ہے جو کئی گنا ہو کر آپ کی طرف واپس لوٹے گا اور پھر آپ اس کیفیت میں اگر اپنوں کے صلى الله