دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 62 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 62

62 لمحدلمحہ خدا تعالیٰ کا ہو چکا ہے۔میری زندگی کا ہرلمحہ اس قید میں جکڑا گیا ہے اور یہی میری لذت کا معراج ہے۔فرمایا یہی کہہ کر لوگوں کو اس طرف بلاؤ۔اگر یہ ایک تکلیف دہ صورتحال ہوتی تو خدا تعالیٰ اس راز کو چھپاتا، نہ کہ ظاہر کرتا۔اگر ایسی بات تھی کہ جس سے طبیعتیں متنفر ہوتیں اور بھا گنتیں اور اسے بوجھ سمجھتیں تو خدا تعالیٰ کو کیا ضرورت تھی کہ اس راز کو مومنوں پر ظاہر کر کے فرماتا کہ یہ حال ہوگا تمہارا۔جو میرے عاشقِ صادق محمد ﷺ کا حال ہے اس لئے ادھر نہ آنا۔دنیا کے عاشق تو ڈرایا کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ہمارا جو حال ہو گیا ہے، خدا نہ کرے تمہارا بھی ہو لیکن اس حال کا جو محمد مصطفی ﷺ کا حال تھا، اس کا عجیب عالم ہے کہ بظاہر دور کی نظر سے ، جتنی دور کی نظر سے اس کو دیکھو اتنا تکلیف دہ دکھائی دیتا ہے۔لیکن خدا کی قریب کی نظر نے اس کو ایک جنت کا نہایت اعلیٰ درجہ کا نمونہ دیکھا اور ایسی عظیم زندگی کے طور پر دیکھا کہ جس کا حال جس کا راز اگر بنی نوع انسان کو پتا چلے تو وہ والہانہ اس زندگی کی طرف دوڑتے چلے آئیں اور اسے اپنانے کی کوشش کریں۔پس یہ وہ اندرونی مضمون ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمیں عطا کیا گیا۔لیکن اس میں اترنے کی صلاحیت بھی ہونی چاہئے۔اسے سمجھے بغیر انسان ان مضامین سے پوری طرح استفادہ نہیں کر سکتا۔پس دنیا کے عاشق کو لطف تو آتا ہے لیکن ساتھ ساتھ ڈراتا بھی تو چلا جاتا ہے کہ آلَايَا أَيُّهَا السَّاقِي أَدِرْ كَأْسًا وَّنَاوِلُهَا که عشق آسان نمود اول ولے افتاد مشکلها اے ساقی ! شراب سے لبریز پیمانہ پکڑا تاکہ میں اپنے آپ کو ڈبودوں ، اپنی یادوں کو غرق کر دوں کہ عشق کے سوا اب مجھ سے رہا نہیں جاتا کیونکہ ” آساں نموداؤل عشق آغاز میں تو بہت پر لطف دکھائی دیتا تھا اور بڑا آسان لگتا تھا’ولے افتاد مشکلہا اب اس میں مبتلا ہو گئے ہیں تو بہت مصیبتوں کا پہاڑ سر پر آپڑا ہے۔لیکن حضرت محمد اللہ کا عشق دیکھا کہ کس شان سے محبوب کی نظر میں ظاہر ہوا کہ خدا تعالیٰ نے یہ اعلان کیا کہ اب کہہ دے اتمام بنی نوع انسان کو مطلع کردے کہ قُلْ اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ کہ اے محبت کا دعوی کرنے والو! خدا کی محبت عذاب نہیں ، خدا کی محبت ثواب ہے ، یہ لذت ہے، یہ جنت ہے اور