دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 58 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 58

58 لا سکے ہیں اور اس جمعہ میں بھی شمولیت کی سعادت پارہے ہیں ان کو بھی میں یہ نصیحت کرتا ہوں اور بعد میں آکر ان سے ملنے والوں کو بھی یہ نصیحت کرتا ہوں اور ہم سب کے چلے جانے کے بعد یہاں ہمیشہ رہنے والے درویشوں کو بھی یہ نصیحت کرتا ہوں کہ اس مقام کے کچھ تقاضے ہیں۔ان تقاضوں پر ہمیشہ نگاہ رہنی چاہئے۔عام حالتوں سے یہاں رہنے والوں کی حالت کچھ مختلف ہونی چاہئے۔ہم سب انسان ہیں ، ہم سب میں کمزوریاں ہیں۔اللہ تعالیٰ ہماری کمزوریوں سے صرف نظر فرمائے ، ہماری غفلتوں کو معاف فرمائے لیکن اس کے ساتھ ہی اس ذمہ داری سے ہم بہر حال آنکھیں بند نہیں کر سکتے جو مقدس مقامات پر رہنے والوں کی ذمہ داریاں ہیں۔خواہ وہ عارضی قیام کے لئے آئیں یا مستقل قیام کی سعادت پائیں پس ان ایام میں ان ذمہ داریوں کو خصوصیت کے ساتھ پیش نظر رکھتے ہوئے ، دعائیں کرتے ہوئے دن گزاریں، خدا تعالیٰ سے توفیق حاصل کرنے کی دعا مانگیں اور توفیق پائیں کہ ہم اپنے روحانی نظام ہضم کو درست کر سکیں اور جہاں بھی قدرت کی طرف سے کوئی روحانی فیض عطا ہونے کا موقع ملے ہم اس سے پوری طرح استفادہ کر سکیں تجھی ہم ایک تنومند ، مضبوط اور صحت مند روحانی وجود کی صورت میں ارتقاء کر سکتے ہیں۔یہ وہ ایام ہیں جن میں کثرت کے ساتھ درود پڑھنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اور احسان کے ساتھ جو عظیم الشان تعلیم، اسلام کی صورت میں ہمیں عطا ہوئی ہے ، وہ پاک کلام جس کا کوئی ثانی نہیں، یعنی قرآن کریم یہ حضرت اقدس محمد مصطفی ماہ کے قلب مطہر پر نازل ہوا تھا قرآن کی وحی کی صورت میں بھی اور اس کے علاوہ دیگر وحی کی صورت میں بھی۔اسلام کی مکمل تعلیم حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے فیض سے ہمیں عطا ہوئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم آپ کو وسیلہ قرار دیتا ہے یعنی وہ واسطہ ہیں جن کے ذریعہ سے تمام روحانی فیوض ، تمام بنی نوع انسان کے لئے ہمیشہ کے لئے جاری کئے گئے۔یہی قرآن کریم ہمیں نصیحت فرماتا ہے۔هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ (الرحمن :(1) کیا احسان کی جزاء احسان کے سوا بھی ہوسکتی ہے۔احسان کی جزاء تو احسان ہی ہونی چاہئے لیکن مشکل در پیش ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ کا احسان اتنا عظیم اور اتنا وسیع اور اتنا دور رس ہے کہ لامتناہی ہے۔اس کی حدود قائم کرنے کا انسان کے ادراک کو اختیار نہیں ہے۔