دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 53 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 53

53 ۲۰ / دسمبر ۱۹۹۱ء بروز جمعہ قادیان قادیان دار الامان میں ورود سے اگلے روز حضور اقدس نے مسجد اقصی میں نماز فجر صبح چھ بجکر ہیں منٹ پر پڑھائی۔یہ پہلی نماز فجر تھی جو خلیفہ اسیح نے ۴۴ سال کے بعد قادیان میں پڑھائی۔نماز فجر کے بعد حضور سب سے پہلے بہشتی مقبرہ تشریف لے گئے اور سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے مزار مبارک پر دعا کی۔اسکے بعد حضرت خلیفتہ اسیح الاوّل ، اپنی والدہ ماجدہ حضرت سیدہ مریم بیگم صاحبہ، حضرت میر محمد اسحاق صاحب ، حضرت میر محمد اسماعیل صاحب، حضرت نا نا جان میر ناصر نواب صاحب ، حضرت نانی جان، حضرت نواب محمد علی خانصاحب اور حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کی قبروں پر دعا کی۔اسکے بعد حضور احاطہ خاص سے باہر تشریف لے آئے اور موصیان کے یادگاری کتبوں کو دیکھتے ہوئے اور ان کے لئے زیر لب دعا کرتے ہوئے آگے قدم بڑھاتے رہے۔یہ کتنے مختلف پیمائشوں کے تھے۔آپ نے انہیں دیکھتے ہوئے فرمایا کہ یہ ایک ہی سائز میں ہونے چاہئیں۔اسکے بعد آپ نے اپنے نانا جان حضرت سید عبد الستار شاہ کی قبر کے بارہ میں دریافت فرمایا۔اس کے بعد آپ بہشتی مقبرہ سے نکل کر محلہ ناصر آباد سے ہوتے ہوئے جلسہ گاہ کے قریب سے عام قبرستان میں تشریف لے گئے۔یہاں ، بچپن میں فوت ہونے والے اپنے دو بھائیوں صاحبزادہ طاہر احمد ( اول ) ( پیدائش : ۱۹۲۳ء ) اور اطہر احمد ( پیدائش: ۱۹۳۱ء) کی قبروں پر دعا کی۔اس کے بعد مرزا گل محمد مرحوم ابن مرزا نظام الدین صاحب اور مرز اسعید احمد مرحوم ابن حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد کی قبر پر تشریف لے گئے اور دعا کی۔یہاں سے فارغ ہوکر حضور بیوت الحمد کالونی کے پاس سے ہوتے ہوئے مولوی عبد المغنی صاحب، ڈاکٹر ملک بشیر احمد صاحب درویش کے گھروں کی درمیانی سٹرک سے گزرتے ہوئے دارالانوار میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی کوٹھی ”دار الحمد تشریف لے گئے اور اس کوٹھی کے سامنے اور پچھواڑے سے گزرے۔یہ کوٹھی آجکل رانا پرتاپ دیو صاحب کی والدہ اور ماموں حسرت صاحب کی ملکیت میں ہے۔باغ والا حصہ دیکھتے ہوئے حضور ، حضرت سید ولی اللہ شاہ ، سید عزیز اللہ شاہ اور سید حبیب اللہ شاہ کے مکانوں اور حضرت