دورۂ قادیان 1991ء — Page 51
51 انکساری اور خادمانہ حیثیت میں بچھا دیا تھا۔آپ حضور کے کاموں میں ہمہ تن مصروف و مستغرق اور حضور ، آپ کے اہل وعیال اور آپ کے اراکین قافلہ کے آرام کی خاطر اپنے آرام کو بھول چکے تھے۔اسی طرح آپ کی بیگم صاحبہ صاحبزادی امتہ القدوس بیگم صاحبہ نے بھی ان سب کی بھر پور خدمت کی توفیق پائی۔فجزاهم الله تعالى احسن الجزاء بہر حال حضور رحمہ اللہ دارا اسیح میں تشریف لائے تو سب سے پہلے مسجد مبارک کے پرانے حصہ میں چار نفل ادا کئے پھر حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کے دالان میں تشریف لائے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے افراد جو پاکستان سے بھی تشریف لائے ہوئے تھے موجود تھے۔آپ اُن سے ملے اور پھر دار اسیح کے اُس حصہ میں گئے جہاں آپ کا بچپن کا وقت گزرا تھا۔قادیان میں قیام حضور انور کا فیصلہ تھا کہ آپ اپنے مکان یعنی اپنی والدہ ماجدہ حضرت ام طاہر سیدہ مریم بیگم صاحبہ والے مکان میں قیام فرمائیں گے۔چنانچہ اُس کی ضروری مرمت اور دیگر ضروریات وغیرہ کا انتظام پہلے سے ہی کر دیا گیا تھا۔لہذا آپ اسی مکان میں مع اہل خانہ قیام پذیر ہوئے۔قادیان میں پہلی نماز اپنے محبوب آقا کے دیدار اور مصافحہ سے فارغ ہوتے ہی احباب مسجد اقصیٰ میں جمع ہو گئے ، چندلحوں کے بعد حضور انور بھی نماز مغرب و عشاء کی ادائیگی کے لئے مسجد اقصیٰ میں تشریف لے آئے۔آپ نے نماز مغرب کی پہلی رکعت میں اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ اور اسطرح إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِین تین تین بار پڑھی۔ابھی سورۃ فاتحہ کی تلاوت شروع ہی کی تھی کہ آپ کی آواز رقت خیز ہوگئی اور پھر ساری نماز ہی درد اور سوز میں ڈوب گئی۔مغرب کی نماز کی پہلی رکعت میں سورۃ الزلزال کی تلاوت فرمائی۔دلوں کی زمین جو پہلے ہی مرتعش و حسّاس ہو چکی تھی ،سورۃ الزلزال کی تلاوت اس میں ایک زلزلے کی سی کیفیت پیدا کر رہی تھی۔آپ نے دوسری رکعت میں سورۃ النصر کی تلاوت فرمائی۔نماز عشاء کی پہلی رکعت میں آیتہ الکرسی اور دوسری رکعت میں فَكَيْفَ إِذَا جَمَعْنَاهُمْ لِيَوْمٍ لَّا رَيْبَ فِيهِ (آل عمران: آیات ۲۶۔۲۸) کی تلاوت فرمائی۔نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انورا اپنی قیامگاہ میں