دورۂ قادیان 1991ء — Page 50
50 انتظامات مذکورہ بالا کمیٹی کے زیر نگرانی مکمل کئے گئے تھے۔احباب جماعت جو ایک رو میں ایستادہ تھے، حضرت خلیفتہ اسیح کا استقبال کر رہے تھے اور آپ پر بھی ایک خاص خوشی کی کیفیت طاری تھی جو آپ کے چہرے کے نور اور تقدس پر پھیلی ہوئی تھی۔چھ گھنٹے سے زائد انتظار کے ساتھ لوگوں کا ایک ہجوم تھا جو مسلسل آنکھیں بچھائے کھڑا تھا اور بسا اوقات فرط جذبات سے بے قابو ہو جاتا تھا۔حضور انور ایوانِ خدمت کے قریب جہاں کار سے اترے تھے ، وہاں سے دارا مسیح تک لوگوں سے مصافحہ کرتے ہوئے گئے۔محترم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب دورانِ مصافحہ ہر ایک کا تعارف کراتے۔حضور ہر ایک سے نہایت محبت اور اپنائیت سے مصافحہ یا معانقہ بھی فرماتے جاتے۔باوجود دہلی سے قادیان تک طویل مسافت کی بھاری مشقت کے حضور کا رُخ مبارک تر و تازہ اور ہشاش بشاش دمک رہا تھا۔مرد حضرات گیٹ دار مسیح کے اندر تک کھڑے تھے۔مردوں کو شرف دیدار و ملاقات بخشنے کے بعد حضور انور آگے صحن میں تشریف لے آئے جہاں مستورات پیارے آقا کے دیدار کے لئے چشم براہ تھیں۔آپ نے انہیں سلام کہا اور شرف دیدار عطا کیا۔حضور جنہیں ملاقات و مصافحے کا شرف بخشتے وہ اپنی سعادت و خوش بختی پر نازاں تھا اور قلب و روح میں اترے ہوئے عقیدت و محبت کے جلووں اور نظروں میں سمائے ہوئے حضور کے پر نور رخ ماہتاب کے حسین تذکرے کر رہا تھا۔گویا دنیا جہاں کا کیا تھا جو ا سے مل نہیں گیا تھا۔در ویشان قادیان میں سے بہت سے جو اپنے عہد وفا نبھاتے ہوئے اس دنیا کے پارا اپنے رب کریم کے پاس جاگزیں ہو چکے تھے۔لیکن وہ جو اس وقت قادیان میں موجود تھے، اپنی جوانی کو پاٹ کر بڑھاپے کے ساحلوں پر اتر چکے تھے۔ان کی خوشی تو نا قابل بیان تھی کیونکہ ان کے ۴۴ سالہ ہجر و انتظار کے طویل فاصلے ان چند لمحات میں سمٹ چکے تھے۔پیارے آقا کا دیدار اور آپ سے ملاقات ان کی زندگیوں کا انمول اور حسین ترین واقعہ تھا۔اس سے وہ اپنے پرانے دکھ درد بھول کر اپنی۔خوش قسمتی پر نازاں ہور ہے تھے۔صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب کی خلیفہ وقت سے عقیدت و اطاعت قابل تقلید تھی۔آپ نے اپنے آپ کو حضور کے سامنے (جو اگر چہ آپ کے بھائی اور عمر میں چھوٹے تھے ) نہایت عاجزی،