دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 49 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 49

49 بھی ، پیا پریمی بھی تھا اور پریمی پیا کیونکہ جس الوہی شمع کے لئے یہ پروانے جمع ہوئے تھے اُس کا اپنا حال یہ تھا کہ لو نغمہ ہائے در دنہاں تم بھی کچھ سنو دیکھونا، میرے دل کی بھی راگن اداس ہے اور یہ کہ ہر لمحہ فراق ہے عمر دراز غم گزرا نہ چین سے کوئی پل آپ کے لئے چنانچہ ان جدائیوں کی ایک ہی وصل سے آبیاری کا یہ نظارہ بھی یقیناً تاریخ عالم کا نہایت منفر داورانوکھا واقعہ تھا جو محض دیکھنے اور محسوس کرنے سے تعلق رکھتا تھا۔دلوں کے ہزار ہزار بندٹوٹ رہے تھے اور یہ کیفیت آنے والے کی بھی تھی اور استقبال کرنے والوں کی بھی۔حضور کی کا راسٹیشن کے لاؤنج میں ہی موجود تھی۔آپ کار میں تشریف فرما ہوئے اور کاروں کے ایک لمبے قافلہ کے جلو میں دارا مسیح کی جانب روانہ ہوئے۔قادیان دارالامان کو اہل قادیان نے حضور اقدس کی آمد کی خوشی میں کئی دنوں کی دن رات کی تگ و دو سے دلہن کی طرح سجایا ہوا تھا۔منارة أسبح ، مسجد مبارک ، مسجد اقصٰی اور دیگر جماعتی عمارات پر چراغاں کیا گیا تھا۔استقبالیہ گیٹ اور راستے رنگ برنگ چمکدار خوبصورت جھنڈیوں اور قمقموں سے مزین تھے۔انفرادی طور پر بھی احباب قادیان نے اپنے گھروں پر چراغاں کر رکھا تھا جس سے محلہ احمد یہ قادیان بقعہ نور بنا ہوا تھا۔سٹرکوں پر جابجا استقبالیہ بینرز لگے ہوئے اور دیوار میں بھی ایسی ہی تحریروں سے آراستہ تھیں۔یہ بینرز اور تحریریں صرف جماعت احمدیہ کی طرف سے ہی نہ تھیں بلکہ قادیان کے دیگر مذاہب کے لوگوں اور تنظیموں کی طرف سے بھی تھیں۔ان سب نے بھی حضرت امام جماعت احمدیہ کو جی بھر کر قادیان میں خوش آمدید کہا تھا۔حضور پر نورا ایوانِ خدمت کے قریب کار سے اترے تو استقبالیہ کمیٹی کے صد ر مکرم محمد کریم الدین شاہد صاحب صدر عمومی اور ممبران کمیٹی مکرم محمد انعام غوری صاحب صدر مجلس انصار اللہ بھارت اور مکرم منیر احمد خادم صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ بھارت نے استقبال کیا۔استقبال کے جملہ