دورۂ قادیان 1991ء — Page 43
43 گاڑی کی روانگی سے قبل اجتماعی دعا کے بعد پونے سات بجے گاڑی روانہ ہونے پر دہلی میں مقیم احباب جماعت نے فلک شگاف نعروں اور محبت بھری نمناک نگاہوں سے اپنے پیارے آقا کو الوداع کہا اور حرکت کرتی ہوئی ریل گاڑی کے ہمراہ والہانہ انداز میں ہاتھ ہلاتے ہوئے اسوقت تک ٹرین کے ساتھ دوڑتے رہے جب تک پلیٹ فارم ختم نہ ہو گیا۔حضور اقدس بھی تمام وقت گاڑی کے دروازہ میں کھڑے خدام کی اس والہانہ محبت کے اظہار کا جواب ہاتھ ہلا ہلا کر دیتے رہے۔حضور انور کی غیر معمولی تاریخی نوعیت کی نظم ”اپنے دیس میں اپنی بستی میں کی آمد بھی اسی تاریخی سفر میں ہوئی۔حضور انور نے فرمایا تھا کہ قادیان جانے کے سلسلہ میں کسی نظم کیلئے پہلے مزاج ہی نہ بن رہا تھا۔پھر دہلی سے امرتسر دوران سفر اس نظم کی آمد ہوئی تو ایک خوبصورت تاریخی نظم بن گئی یہ نظم جلسہ کے تیسرے روز پڑھی گئی۔حضور انور اور اراکین قافلہ کے علاوہ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے جن افراد جماعت کو دہلی سے امرتسر تک سفر کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ان کی ملک وار تفصیل یوں ہے:۔سنگا پور ۲۳ انگلستان ۲۵ جرمنی 1 ہالینڈ ۵ سویڈن ۳ ناروے ۳ پاکستان ۳ ماریشس ۲ انڈیا ۲ اردن ۱ امریکہ ۱ ان افراد کے اسماء حسب ذیل ہیں جن کو پیش ہوگی میں حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی معیت میں دہلی سے قادیان تک سفر کی سعادت نصیب ہوئی:۔صاحبزادی یاسمین رحمان مونا صاحبہ، صاحبزادی عطیہ المجیب طوبی صاحبہ، صاحبزادی فائزه صاحبہ، صاحبزادہ مرزا لقمان احمد صاحب، صاحبزادہ مرزا عثمان احمد صاحب، صاحبزادہ مرزا عدنان احمد صاحب، صاحبزادی نداء النصر صاحبہ، مکرم نصیر احمد قمر صاحب پرائیویٹ سیکرٹری ، خاکسار ہادی علی ایڈیشنل وکیل التبشیر ، مکرم بشیر احمد خان صاحب رفیق ایڈیشنل وکیل التصنيف، مکرم میجر محمود احمد صاحب چیف سیکیورٹی آفیسر مکرم ملک اشفاق صاحب، مکرم محمود خان صاحب ، کرم خالد نبیل ارشد صاحب، مکرم مرزا عبدالرشید صاحب، مکرم سعید جسوال صاحب مکرم و سیم جسوال صاحب، مکرم محمد احمد جسوال صاحب ،کرم آفتاب احمد خان صاحب امیر جماعت احمد یہ U۔K ،کرم مرزا کلیم احمد صاحب