دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 37 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 37

37 صاحب لندن اسی طرح اور بھی بہت سے افراد تھے جن کے اسماء معلوم نہ ہو سکے۔حضور انور کے ایک دوست سردار ہمت سنگھ صاحب آف جرمنی ( جو حضور انور سے انتہائی محبت وعقیدت کا تعلق رکھتے ہیں ) کے بھائی ہر دیال سنگھ صاحب نے حضور پر گلاب اور دوسرے پھولوں کی پتیاں نچھاور کر کے آپ کو دہلی میں خوش آمدید کہا اور اپنی کا رمع ڈرائیور آپ کی خدمت میں پیش کی۔یہ کار دہلی میں قیام کے دوران مستقل طور پر حضور انور کے لئے ریز رورہی۔ایئر پورٹ سے حضور انور مذکورہ بالا کار میں دہلی کی احمد یہ مسجد بیت الہادی“ تشریف لائے جس کی پوری عمارت کو رنگ برنگی جھنڈیوں اور قمقموں سے سجانے کے علاوہ "WEL COME" اور "Love For All Hatred For None" کے الفاظ خوبصورت گراسی پلاٹ میں پھولوں سے تحریر کئے گئے تھے۔جو اپنے مختلف رنگوں اور مہکار کے ساتھ مسیح پاک کے خلیفہ کو خوش آمدید کہہ رہے تھے۔احمدیہ مسجد دہلی میں مکرم مولانا عنایت اللہ صاحب مبلغ دہلی ، مکرم مولانا غلام نبی نیاز صاحب مبلغ دہلی ، مکرم عبدالشکور صاحب صدر جماعت دہلی اور مکرم مولانا بشیر احمد صاحب دہلوی سابق مبلغ دہلی ، دہلی کی مقامی جماعت اور بھارت کی بعض دیگر جماعتوں کے افراد بھی حضور انور کے لئے چشم براہ تھے ( جنکی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل تھی ان میں بہت سے ایسے بھی تھے جومختلف انتظامات میں ہاتھ بٹانے اور خدمت خلق کی ڈیوٹیاں انجام دینے کی غرض سے آئے تھے ) ان سب نے پر تپاک اور والہانہ انداز میں نعرہ ہائے تکبیر ، اسلام زندہ باد، احمدیت زندہ باد، حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ، غلام احمد کی جے، خلافت احمدیہ زندہ باد اور بعض دیگر خیر مقدمی نعروں کے ساتھ پیارے آقا کا پُر جوش استقبال کیا۔حکومت ہند کی طرف سے حضور کی رہائش گاہ پر سیکورٹی کے واسطے خصوصی گارڈ اور آمد ورفت میں آپ کے قافلے کے ساتھ سرخ بتی والی گاڑی بھی مہیا کی گئی تھی۔دیلی مسجد پہنچنے کے بعد حضور انور اپنی قیام گاہ میں تشریف لے گئے۔کچھ دیر بعد آپ مسجد میں تشریف لائے۔جہاں آپ کی اقتداء میں نماز ظہر و عصر قصر ادا کی گئیں۔نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور نے مکرم وسیم جسوال صاحب کو بلا کر ان سے وہیں محراب میں ہی سیٹیلائٹ ٹرانسمیشن ، ریکارڈنگ اور مواصلات کے دیگر انتظامات کے بارہ میں میٹنگ کی۔اس مختصر میٹنگ کے بعد آپ