دورۂ قادیان 1991ء — Page 261
از ڈاکٹر عبدالکریم خالد 261 ہجرت ، ہجر اور وصال ایک تاریخی سفر کا حال ہجرت اور ہجر دو ایسے الفاظ ہیں جن کا آپس میں ایسا ہی گہرا تعلق ہے جیسا جسم اور روح کا ہجر ہجرت کے اندر سانس لیتا ہے اور اس کے سارے کرب کو سمیٹ لیتا ہے۔اسباب ،حالات اور واقعات اس طور عمل پذیر ہوں کہ کسی ایسے مقام کو چھوڑ نالازم ٹھہرے جس سے انسان کا گہرا ربط ہو، دل کا رشتہ ہو ، جذباتی تعلق ہو، جہاں کی خاک میں اس کے احساس کی نمو ہو، جہاں کی مٹی میں اس کا بچپن اور زندگی کا ایک طویل زمانہ گزرا ہو تو اس لمحے انسان پر جو گذرتی ہے ،اس کے دل کی جو کیفیت ہوتی ہے اور اس کی آنکھ جس طور پر اشک بار ہوتی ہے ، حیطہء بیان سے باہر ہے۔اپنے پیاروں سے بچھڑنے کا غم الگ، اپنی خاک ، اپنی زمین سے جدا ہونا الگ سوہان روح ہے۔دنیا دار لوگوں کا اپنا تجربہ ہے۔لیکن وہ جن کی دنیا عام لوگوں سے مختلف ہوتی ہے ، جن کی زندگی کسی اور ہی دائرے میں گردش کرتی ہے، اس صورت حال کو کسی اور آن دیکھتے ہیں۔ان کے صبر کے پیمانے بھی دوسروں سے مختلف ہوتے ہیں کہ بھر کر بھی چھلکتے نہیں۔ان کی نگاہ زمین کے عارضی ٹھکانوں کے بجائے عرش کی طرف اٹھتی ہے۔اپنے رب کے ساتھ ایک تعلق خاص ان کے لرزیدہ قدموں کو ثبات اور شکستہ حوصلوں کو استواری بخشتا ہے۔ایک غیبی طاقت انہیں سہارا دیتی ہے۔ایک دست مہربان کا حرارت آفریں لمس ان کے غموں کو تحلیل کر دیتا ہے اور وہ ساعت نامہربان سے ساعت مہربان میں قدم رکھتے نئے عزم حوصلے کے ساتھ جادہ بیمار ہتے ہیں۔الہبی جماعتوں پر ایسا وقت آیا ہی کرتا ہے جب مخصوص حالات کے پیش نظر انہیں ہجرت کا مرحلہ در پیش ہوتا ہے اور اپنے مرکز سے جدا ہو کر نئے مقامات کی طرف کوچ کرنا پڑتا ہے۔یہ ہجرت چونکہ خاص الہی منشا کے تحت ہوتی ہے اس لئے غیب سے ایسے اسباب بھی مہیا ہوتے ہیں جو ہجرت میں اٹھنے والے ہر قدم کو نئے امکانات کی خبر دیتے اور کامیابی و کامرانی کی راہیں کشادہ کرتے چلے جاتے ہیں۔