دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 206 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 206

206 راہ میں ایک نہایت اعلیٰ پیمانے کا تعلیم اور تدریس کا نظام جاری کرنا مشکل نہیں ہے اور قانو نا کوئی روک نہیں ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ یہ نمونہ جب قائم ہوگا تو باقی سکھ اداروں کو بھی ہوش آئے گی اور وہ بھی ہماری تقلید کی کوشش کریں گے اور قومی فائدہ پہنچے گا۔تو اس ضمن میں جب باہر سے اسا تذہ بلانے کا یا اور خدمات کا وقت آئے گا تو میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ ساری دنیا کی جماعتیں اس میں حصہ لیں گی۔سر دست تو میں دعا کی تحریک کر رہا ہوں کہ بہت با قاعدگی سے ، سنجیدگی سے دل لگا کر دعا کریں کہ قادیان کی کھوئی ہوئی عظمت کو بحال کرنے کے لئے خدا پھر ہمیں توفیق بخشے کہ پرانے تعلیمی اداروں کی روایات کو زندہ کر سکیں اور جو کردار وہ پہلے ادا کرتے رہے ہیں از سر نو پھر وہ یہ کردارادا کر سکیں۔قادیان کو تو ساری دنیا میں علم کا مرکز بننا ہے اور خدا نے اس کام کے لئے اُسے چن رکھا ہے۔پارٹیشن سے پہلے کی بات کر رہا ہوں کہ جن دنوں میں قادیان ایک چھوٹی سی بستی تھا مگر علمی لحاظ سے اس کی بڑی شان تھی اور پنجاب میں دور دور تک قادیان کے سکول سے نکلے ہوئے طلباء کی عزت کی جاتی تھی ، احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ان کو اعلیٰ سے اعلیٰ کالجوں میں داخل کرنے کی راہ میں کوئی روک نہیں ہوا کرتی تھی۔انگریزی زبان کا معیار اتنا بلند تھا اور کھیلوں کا معیارا اتنا بلند تھا کہ ان دو غیر معمولی استثنائی امتیازات کی وجہ سے قادیان کے طلباء جب چاہیں گورنمنٹ کالج میں ، ایف سی کالج میں کسی بہترین ادارے میں داخل ہونا چاہیں تو ان کو عزت کے ساتھ لیا جاتا تھا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کو خدا کے فضل سے یہ دونوں امتیاز حاصل تھے کہ انگریزی زبان میں بھی غیر معمولی ملکہ اللہ تعالیٰ نے عطافرمایا تھا، ایک قدرت حاصل تھی اور فٹ بال کے بھی بہترین کھلاڑی تھے یہاں تک کہ جب میں گورنمنٹ کالج میں داخل ہوا ہوں تو اس وقت تک حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی تصویر ان طلباء کی صف میں لٹکی ہوئی تھی جنہوں نے گورنمنٹ کالج میں غیر معمولی اعزازی نشانات حاصل کئے تھے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے مجھے بتایا کہ ان کا انگریز پروفیسر غالباً سٹیفن نام تھا، مجھے پوری طرح یاد نہیں، اس نے ایک دفعہ اُن سے کہا کہ قادیان میں تم لوگ کیا کرتے ہو؟ وہاں تو میں نے دیکھا ہے کہ دو چیزوں کے کارخانے لگے ہوئے ہیں، اچھے انگریزی دان اور اچھے کھلاڑی۔جو بھی قادیان کا طالب علم آتا ہے اس کا