دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 205 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 205

205 جن کے پیش نظر ہمیں قادیان میں تعلیمی سہولتیں مہیا کرنی ہیں اور بہت اعلیٰ پیمانے کی تعلیمی سہولتیں مہیا کرنی ہیں۔میرے ذہن میں جو نقشہ ہے وہ یہ ہے کہ زبانوں کے لحاظ سے بھی یہ بہترین سکول اور بہترین کالج ہو جائیں اگر جرمن زبان پڑھانی ہے تو باہر سے جرمن قوم کے لوگ وہاں جا کر ٹھہریں اور خدا کے فضل سے ایسے موجود ہیں جو میری تحریک پر اپنے آپ کو پیش کر دیں گے۔انگریز انگریزی پڑھا ئیں۔عرب عربی پڑھائیں اور اسی طرح مختلف زبانوں کے ماہرین جو اپنے ہاں اہل زبان کہلاتے ہیں وہ جاکر ان بچوں کو تعلیم دیں تو اس پہلو سے پنجاب میں خصوصیت کے ساتھ اتنا بڑا خلا ہے۔اگر ہمیں یہ توفیق ملے تو انشاء اللہ تعالیٰ بڑی دور دور تک اس تعلیمی ادارے کا شہرہ ہوگا۔کیونکہ بدنصیبی سے سکھوں نے تو ہم پرستی کے تابع ہو کر پنجابی پر اتنا زور دے دیا ہے کہ اب وہاں تقریباً تمام اداروں میں پنجابی میں ہی تعلیم دی جارہی ہے اور باقی زبانیں عملاً کالعدم ہیں یا انہیں کالجوں سے اگر با قاعدہ دیس نکالا نہیں ملا تو ان کی حوصلہ افزائی کا ایسا انتظام نہیں ہے جس کی وجہ سے باقی زبانیں عملاً مرچکی ہیں یا محض رسمی طور پر پڑھائی جاتی ہیں اور اس کا شدید نقصان سکھ قوم کو پہنچے گا۔میں نے ان کے لیڈروں کو یہ بھی سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ تم لوگ بہت ہی غلط فیصلہ کر چکے ہو۔پنجابی کو مقام دو، بے شک اس کی خدمت کرو ، یہ تمہارے لئے جائز ہے، قومی لحاظ سے ضروری بھی ہوگا لیکن بین الا قوامی زبانوں کو چھوڑ کر اگر صرف پنجابی میں تعلیم دی تو باہر نکل کر یعنی پنجاب سے باہر جا کر یا تم جتنی تعلیم دے سکتے ہو ان حدود سے اوپر جا کر یہ بچے کیا کریں گے۔دنیا میں سائنس کی ساری کتابیں یا انگریزی میں ملیں گی یا جرمن میں ملیں گی یا فرنچ میں ملیں گی یا Japanese میں ملیں گی اور پنجابی میں تو کوئی کتاب نظر نہیں آئے گی اور دنیا کے دوسرے ادارے ان کو قبول ہی نہیں کریں گے تو یہ دراصل ایک وسیع پیمانے پر علمی خودکشی ہے۔مگر یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہندوستان کی جماعت کا ایک قانون یہ ہے کہ کسی صوبے میں جو تعلیمی پالیسی ہے، اس صوبے سے متعلق ادارے اس تعلیمی پالیسی کے اختیار کرنے کے پابند ہیں لیکن ہر صوبے میں مرکزی تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے کے امکانات ہیں۔اس لئے پنجاب کا کوئی تعلیمی ادارہ دہلی کے تعلیمی نظام سے متعلق ہونا چاہے تو وہ ہو سکتا ہے۔علی گڑھ کے تعلیمی نظام سے متعلق ہونا چاہے تو وہ ہوسکتا ہے اور اس پر پھر اسی ادارے کا قانون صادر ہو گا جس سے وہ متعلق ہے تو اس لئے جماعت احمدیہ کی