دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 190 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 190

190 تھی کہ یہاں کے حالات ایسے ہیں ہماری ساری فوجیں، ہماری پولیس وغیرہ سارے پنجاب میں اس طرح مصروف ہے کہ ہم اتنے زیادہ آدمیوں کی ذمہ داری قبول نہیں کر سکتے۔اس لئے تعاون کرنا چاہتے ہیں مگر مجبوری ہے۔ان کا تو یہ عذر تھا لیکن دراصل جو مجھے دکھائی دیا ہے وہ یہ ہے کہ اس سے زیادہ کی ہمارے اندر بھی استطاعت نہیں تھی، طاقت نہیں پیدا ہوئی تھی۔اس لئے طاقت کو بڑھا ئیں تو اللہ تعالیٰ باقی آسانیاں خود پیدا فرما دیگا اور طاقت کو بڑھانا بھی اسی کا کام ہے۔اس لئے آخر پر میں ایک دفعہ پھر تمام عالمگیر جماعتوں کی طرف سے ان سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے قادیان کے جلسہ کو کامیاب بنانے میں بھر پور حصہ لیا ہے۔اپنوں کا بھی ، غیروں کا بھی، ہندوستان کی حکومت کا بھی ، پنجاب کی حکومت کا بھی ، پاکستان کی حکومت کا بھی کہ انہوں نے کوئی روک نہیں ڈالی اور جیسا کہ خطرہ تھا کہ معاندین جو حسد کی آگ میں جل رہے تھے وہ رستے میں شرارت پیدا کریں گے۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ حکومت پاکستان نے اس معاملہ میں ان کی حوصلہ افزائی نہیں کی ورنہ کئی شرارتیں پیدا ہو سکتی تھیں۔کئی تکلیف دہ واقعات رونما ہو سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے اس شر سے بھی ہمیں بچایا۔اس پہلو سے میں حکومت پاکستان کا بھی شکر یہ ادا کرتا ہوں۔آخر پر دو ایسے مرحومین کے لئے دعا کی درخواست کرتا ہوں جن کا جماعت انگلستان سے تعلق تھا اور وہ دونوں ہم وہیں پیچھے چھوڑ کر آئے ہیں۔ایک ہمارے کیپٹن محمد حسین صاحب چیمہ ہیں جو جماعت احمد یہ انگلستان کے ایک بہت ہی پیارے اور ہر دلعزیز انسان تھے۔بڑی عمر کے باوجود ان کا دل جوان تھا ان کا جسم جوان صحت مند ، ہر قسم کے مقابلوں میں حصہ لیتے ، ہر وقت مسکراتے رہتے اور بڑی عمر میں دین کی خدمت کا ایسا جذبہ تھا کہ ایک دفعہ میں نے تحریک کی کہ گورمکھی جاننے والے ہمارے پاس کم رہ گئے ہیں تو انہوں نے بڑی محنت کے ساتھ گورمکھی زبان سیکھی اور اس میں بہت اعلیٰ سرٹیفیکیٹ حاصل کئے۔ان کی گورکھی کی جو تحریر میں نے دیکھی ہے۔اخباروں میں بھی چھپتی رہی ہیں ان کی کتابت ہی ایسی خوبصورت تھی کہ آدمی حیران رہ جاتا تھا۔یہ سب کام انہوں نے اس عمر میں ولولے اور جوش سے سیکھے اور انگلستان کی جماعت میں تو یہ ایک خلا ہے جو بہر حال رہے گا۔جماعت دیر تک ان کو یادر کھے گی۔ان کے لئے دعائیں کرتی رہے گی۔باقی دنیا کی جماعتوں کو بھی میں درخواست کرتا ہوں ان کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔ان کی بڑی خواہش تھی کہ قادیان میں دفن