دورۂ قادیان 1991ء — Page 189
189 کی واپسی کا صرف اس چھوٹے سے حصے سے تعلق نہیں ہے جو اس وقت ہمارے قبضہ میں ہے۔سارے قادیان کے دلوں کا ہمارے قبضہ میں آنا ضروری ہے اور اس ضمن میں یہ جو کوشش تھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت ہی مؤثر اور بہت ہی کامیاب ثابت ہوئی ہے۔چنانچہ آنے سے پہلے جو وفود ملے ان میں سے ایک وفد اسی سلسلہ میں ملا تھا۔اس نے کہا کہ ہم سے تو لوگ ناراض ہیں کہ ہمیں کیوں نہیں بتایا اور جو قصے ہم آگے لوگوں کو سناتے ہیں کہ اس طرح مہمان تھے۔ایسے ایسے عجیب انسان تھے۔ایسی شرافت کے ساتھ انہوں نے ہم سے برتاؤ کیا۔ایسی محبت اور اخلاص کے ساتھ سلوک کیا۔کہتے ہیں وہ قصے سنتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم کیوں پیچھے رہ گئے تو انہوں نے مجھے یقین دلایا کہ آئندہ اگر آپ ہمیں پہلے اطلاع کریں تو قادیان میں شاید ہی کوئی گھر ہو جو مہمان رکھنے کے لئے تیار نہ ہو اور اس وقت قادیان کی آبادی کا جو پھیلاؤ ہے اگر جیسا کہ خدا تعالیٰ نے آثار ظاہر فرمائے ہیں وہ ان عہدوں پر قائم رہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو اسی طرح احمدیت کی محبت سے بھرے رکھے تو آئندہ مہمان ٹھہرانے کا مسئلہ کوئی مسئلہ نہیں رہے گا۔جس طرح پرانے زمانہ میں قادیان کی چھوٹی آبادی تھیں تیں چالیس چالیس ہزار مہمانوں کو ٹھہرالیا کرتی تھی اب یہ آبادی جو وسیع ہو چکی ہے، کچھ اور بھی بہت سے مہمان خانے بننے والے ہیں یہ سب ملا کر میں سمجھتا ہوں کہ ڈیڑھ دولاکھ تک بھی وہاں مہمانوں کے ٹھہرانے کا انتظام ہو سکتا ہے۔اس کے لئے تیاری کا جتنا وقت چاہئے اسی نسبت سے اللہ تعالیٰ ہماری توفیق بڑھا رہا ہے۔اس دفعہ ہم نے خواہش ظاہر کی تھی کہ حکومت ہندوستان پچاس ہزار تک اجازت دے دے مگر تجربہ نے بتایا کہ پچاس ہزار کی ہمارے اندر توفیق نہیں تھی نہیں سنبھال سکتے تھے۔یعنی پوری کوشش کے باوجود سارے کارکن مل کر بھی کام کرتے تب بھی قادیان کے حالات ابھی ایسے نہیں ہیں کہ جماعت احمدیہ قادیان میں اتنے مہمان ٹھہر اسکے لیکن اب وہ وسعتیں پیدا ہوتی دکھائی دے رہی ہیں آغاز ہو چکا ہے تو اگلے سال میں سمجھتا ہوں اگر خدا نے توفیق دی اور یہی اس کا منشاء ہوا کہ ہم پھر وہاں اس جلسہ میں جائیں تو پہلے کی نسبت دو تین گنا زیادہ مہمانوں کو وہاں ٹھہرایا جاسکے گا۔پس ہندوستان کی حکومت نے جو دس ہزار کی شرط لگائی وہ معلوم ہوتا ہے تقدیر خیر ہی تھی جسے ہم تقدیر شتر سمجھ رہے تھے۔ہم سمجھتے تھے کہ انہوں نے ہمارے ساتھ پورا تعاون نہیں کیا لیکن ہندوستان کی حکومت کہتی