دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 175 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 175

175 خطوں میں ایک ہی رؤیا ہے جس کا تعلق سکھر کے اسیروں کے ساتھ تھا اور ساتھ ہی ان کی دعا بھی ہے کہ خدا کرے میری یہ رویا پوری ہو جائے۔چنانچہ پیشتر اس سے کہ میں وہ خط پڑھتا اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ رو یا پوری ہو چکی تھی۔یہ اللہ تعالیٰ کے پیار کے اظہار کے انداز ہیں اور یہ یقین دلانے کے لئے ہیں کہ یہ اتفاقی حادثات نہیں ہیں۔جو کچھ ہو رہا ہے تقدیر الہی کے مطابق ہو رہا ہے۔ورنہ ایک سے زیادہ خط الجھے ہوئے خیالات کے آتے ہی رہتے ہیں جس میں مہم سے رنگ میں بعض خوشخبریاں بھی ہوتی ہیں لیکن سکھر کے اسیران سے تعلق رکھنے والی ایسی واضح خوشخبری اور اس کی Timing کہ کس طرح وہ خط لکھا گیا اور کس وقت پہنچا کہ جب وہ خبر بھی پہنچ رہی تھی ، یہ ساری باتیں اہل ایمان کے ایمان کو بڑھانے کا موجب بنتی ہیں۔پس یہ بھی قادیان کے جلسہ کی برکت اور اس کے بعد آنے والے پُر فضا دور کی خوشخبری ہے اور اس کے آغاز کی وہ لہریں ہیں جو بعض دفعہ اچھے موسم آنے سے پہلے ہوا میں پیدا ہوتی ہیں اور انسان کی روح کو تراوت بخشتی ہیں۔پس میں سمجھتا ہوں کہ انشاء اللہ آئندہ اور بھی بہت سی خوشخبریاں خدا تعالیٰ کی طرف سے نصیب ہونگی۔قادیان کے مسائل میں سے ایک بڑا مسئلہ وہاں کی تھوڑی آبادی ہے۔بعض دوستوں کو قادیان کے اس سفر کے نتیجہ میں بہت امیدیں بندھ گئیں کہ اب قادیان کی واپسی قریب ہے لیکن میں جماعت کو سمجھانا چاہتا ہوں اور گزشتہ خطبہ میں بھی میں نے مختصراً اس پر گفتگو کی تھی کہ واپسی کوئی ایک دم آنا فانا رونما ہونے والا واقعہ نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ایک دفعہ لے کر جائے گا، پھر بار با رلائے گا اور امن کے ماحول میں ایسا ہوتا رہے گا۔اس لئے میں نہیں کہہ سکتا کہ خدا کی کیا تقدیر کب ظاہر ہوگی اور اس کا منشاء کیا ہے۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک لمبے عرصہ تک مرکز سلسلہ با ہر ہی رہے، دارالہجرت میں ہی ہو خواہ وہ دارالہجرت پاکستان کا ہو یا کسی اور جگہ کا اور قادیان کے حالات ایسے ہوں کہ بار بار خلفائے سلسلہ کو وہاں جانے کی توفیق ملتی رہے اور باہر بیٹھ کر قریب کی نگرانی کا بھی موقع ملتا رہے۔اس لئے خوابوں میں بسنا ان معنوں میں تو درست ہے کہ خدا تعالیٰ جور و یا دکھائے ، جو خوشخبریاں دکھائے ان امیدوں میں انسان بسا ر ہے، یہی ایمان کی شان ہے لیکن ان معنوں میں خوابوں میں بسنا درست نہیں کہ اپنی مرضی سے اپنے من کی باتوں کو تقدیر بنا بیٹھے اور پھر یہ سمجھے کہ جو میری