دورۂ قادیان 1991ء — Page 168
168 احباب سے تعارف حاصل کرتے رہے اور مختلف امور زیر بحث لاتے رہے۔یہ مجلس تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہی۔یہاں سے فارغ ہو کر آپ دفتر میں تشریف لائے اور مکرم پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کو بعض ہدایات دیں۔ان کے بعد خاکسار اور مکرم آفتاب احمد خان صاحب نے لندن واپسی کے پروگرام سے متعلق ہدایات حاصل کیں۔اس کے بعد حضور اپنی قیام گاہ میں تشریف لے گئے۔روانگی برائے لندن آج کی شب لندن کے لئے روانگی کا پروگرام تھا۔سب ارکان قافلہ تیاری میں مصروف تھے۔تیاری مکمل ہونے پر سارے قافلہ کا سامان ابجے شب مشن ہاؤس سے ائیر پورٹ پہنچا دیا گیا تھا جسے Check In کروایا گیا اور دیگر معمول کی کارروائی بسلسلہ امیگریشن وغیرہ مکمل کر لی گئی تھی۔ادھر ۵ار جنوری سے تاریخ جست لگا کر ۱۶ میں بدل چکی تھی۔حضور تقریب ڈیڑھ بجے شب اندرا گاندھی ائیر پورٹ دہلی کے ٹرمینل نمبر ۲ پر تشریف لائے اور سید ھے V۔I۔P لاؤنج میں تشریف لے گئے۔وہاں اپنی بیٹیوں اور مکرم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب اُن کی بیگم صاحبہ اور بیٹی کے ہمراہ تقریباً پینتالیس منٹ تک تشریف فرمار ہے۔دہلی ائیر پورٹ پر پیارے آقا کو الوداع کہنے کے لئے مکرم صاحبزادہ مرز او سیم احمد صاحب کے علاوہ مکرم آفتاب احمد خان صاحب نیشنل امیر یوکے، مکرم چوہدری منظور احمد صاحب وکیل اعلیٰ قادیان، مکرم خورشید احمد انور صاحب ناظم وقف جدید، مکرم منیر احمد صاحب حافظ آبادی ناظر امورِ عامہ، مکرم مولوی محمد انعام غوری صاحب صدر مجلس انصار اللہ بھارت، مکرم منیر احمد خادم صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ بھارت اور محترمہ امتہ القدوس بیگم صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ بھارت بھی اپنی اپنی مجالس، اہالیانِ قادیان و ہندوستان کی نمائندگی میں آئے تھے۔حضور VIP لاؤنج سے رات کے سوا دو بجے اٹھے اور بورڈنگ وغیرہ کی رسمی کاروائی کے بعد برٹش ائیرویز کی فلائٹ BA036 میں فرسٹ کلاس میں سیٹ نمبر 021 پر تشریف فرما ہوئے۔اس پرواز کا وقت صبح ۲ بجکر ۳۰ منٹ تھا لیکن کسی وجہ سے ایک گھنٹہ تاخیر سے یعنی مقامی وقت کے مطابق جگر ۳۰ منٹ پر روانہ ہوئی۔تقریبا 9 گھنٹے کے مسلسل سفر کے بعد مقامی وقت کے مطابق صبح ے بجگر