دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 167 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 167

167 تھی۔یہ لوگ جلسہ سالانہ قادیان میں اس وجہ سے حاضر نہ ہو سکے تھے کہ ان کے عزیز محترم سیٹھ معین الدین صاحب سابق امیر جماعت احمدیہ حیدر آبادان ایام میں وفات پاگئے تھے۔اور اب یہ دوست اپنے آقا کے دیدار اور ان سے ملاقات کے لئے دہلی حاضر ہوئے تھے۔حضور نے آدھ گھنٹہ سے زیادہ وقت ان سے ملاقات کی اور اکثر سے تفصیلی گفتگو فرمائی۔اسی دوران ان میں سے بہت سارے دوستوں نے اپنے آقا کے ساتھ اس ملاقات کے نقوش کو مستقل یادوں میں ڈھالنے کے لئے تصاویر بھی اتروائیں۔ان سے ملنے کے بعد آپ دفتر میں تشریف لائے اور تین فیملیز اور سات افرادکو انفرادی ملاقات کا شرف بخشا۔بعد ازاں خاکسار اور مکرم پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے دفتری امور کی بابت اکٹھی ملاقات کی اور آپ سے ہدایات حاصل کیں۔سکھر کے دونوں اسیران راہ مولیٰ مکرم پروفیسر ناصر احمد قریشی صاحب اور مکرم رفیع احمد قریشی صاحب جو سکھر کی سنٹرل جیل سے رہا ہو کر کراچی پہنچ چکے تھے اُن سے حضور نے فون پر نماز ظہر وعصر سے قبل براہ راست بات کی۔حضور ان کی اسیری کے اختتام پر بیحد مسرور تھے۔اسی خوشی کے ظاہری اظہار کے طور پر آپ نے دہلی مشن ہاؤس میں موجود سب دوستوں میں مٹھائی تقسیم کروائی۔نماز ظہر و عصر ڈیڑھ بجے ادا کی گئیں۔بعد دو پہر چار بجے حضور انڈیا کے سابق وزیر خارجہ اندر کمار گجرال صاحب کی دعوت پر ان کے گھر تشریف لے گئے جہاں ایک گھنٹہ کے لگ بھگ وقت گزارا۔وہاں سے آپ جب واپس مسجد تشریف لائے تو شام کے دھند کے تاریکی میں بدل رہے تھے۔اسی دوران دہلی مشن ہاؤس میں مہمانوں کی خدمت کرنے والے مختلف شعبوں ، حفاظت پر مامورخد ام اور بھارت کے مبلغین کرام جو اس وقت وہاں موجود تھے سب نے اپنے اپنے گروپ میں اپنے آقا کے ساتھ تصویریں اتروا ئیں۔حضور انور نے اسکے بعد نماز مغرب و عشاء پڑھا ئیں۔ان کے بعد تین وفات یافتگان یعنی اہلیہ صاحبہ محترم چوہدری آفتاب احمد صاحب لندن، محترمہ مبارکہ بیگم صاحبه خوشدامن مکرم عبدالعظیم صاحب مرحوم درویش قادیان اور مکرم سید عبد الریحان صاحب تبرہ پورہ بہار ( بہنوئی مکرم محمد عبد الباقی صاحب بہار کی نماز جنازہ غائب پڑھائی۔بعد ازاں حضور مسجد ہی میں رونق افروز رہے اور مختلف