دورۂ قادیان 1991ء — Page 7
7 ارادہ ہو چکا ہے۔اس پر حضرت مسیح موعود ﷺ نے صحابہ سے مشورہ کے بعد فیصلہ فرمایا کہ خواتین مصلح مبارکہ کو جلد سے جلد قادیان سے پاکستان پہنچانے کا انتظام کیا جائے۔چنانچہ ۲۵ رظہور ر ا گست کو یہ انتظام ہو گیا اور حضرت ام المومنین اور دوسری خواتین مبارکه (باستثناء حضرت سیدہ ام متین صاحبه و حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ ) لاہور تشریف لے آئیں۔( تاریخ احمدیت جلد نمبر، صفحہ ۷۳۰۷۲۹ ) حالات کی سنگینی اور غیر معمولی خطرات کے پیش نظر امام جماعت احمد یہ حضرت مصلح موعود ﷺ نے بیرونی جماعتوں کے نام خصوصی دعاؤں ، صدقات اور روزوں کے بارہ میں ایک پیغام بھجوایا۔پھر دوسرا پیغام ۳۰ رظهور را گست ۳۲۶اهش ۱۹۴۷ء کو بھجوایا جس میں آپ نے تحریر فرمایا: اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيْمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمَ خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ هو الناصر جماعت کو ہدایات جو فو ر اً شائع کر دی جائیں۔باوجود بار بار زور دینے کے لاہور کی جماعت نے کنوائے نہیں بھجوائے جس کی وجہ سے قادیان کا بوجھ حد سے زیادہ ہو گیا۔اگر کنوائے آتے تو شاید میں بھی چلا جاتا اور جب مسٹر جناح اور پنڈت جی آئے تھے۔اُن سے کوئی مشورہ کرتا۔۔۔۔ا۔اگر قادیان میں کوئی حادثہ ہو جائے تو پہلا فرض جماعت کا یہ ہے کہ شیخو پورہ یا سیالکوٹ میں ریل کے قریب لیکن نہایت سستی زمین لے کر ایک مرکزی گاؤں بسائے مگر قادیان والی غلطی نہیں کہ کوٹھیوں پر زور ہو۔سادہ عمارات ہوں۔فوراً ہی کالج اور سکول اور مدرسہ احمدیہ اور جامعہ کی تعلیم کو جاری کیا جائے۔دینیات کی تعلیم اور اس پر عمل کرنے پر ہمیشہ زور ہو۔علماء بڑے سے بڑے پیدا کرتے رہنے کی کوشش کی جائے۔۲ تبلیغ کا سلسلہ اسی طرح جاری رہے۔وقف کے اصول پر جلد سے