دورۂ قادیان 1991ء — Page 121
121 ނ نظر اس کے کہ یہاں کی موسم کی سختی کے وہ عادی نہیں تھے۔اکثر ایسے علاقوں کے رہنے والے تھے کہ جہاں سارا سال گرمی ہی پڑتی ہے۔سردی کم گرمی کا نام ہے اور حقیقت میں وہ سردی سے آشنا نہیں مگر انہی ایک دو کپڑوں میں ملبوس جوگرمیوں کے کپڑے تھے اور جن کے وہ عادی ہیں ان میں وہ تشریف لائے لیکن ان کے اندر ایک ایسا ولولہ ، ایسا جوش تھا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے سب سے کم وہ ہیں جو بیمار پڑے۔وہ جو ٹھنڈے علاقوں سے آئے تھے۔وہ جن کو تن بدن ڈھانکنے کے سارے سامان میسر تھے ان میں بہت زیادہ نزلہ زکام اور بخار نے راہ پائی لیکن عجیب بات تھی کہ ان میں نے میں نے کسی کو نہیں دیکھا کہ اس کا ناک بہ رہا ہو یا سردی سے کانپ رہا ہو۔ایک عجیب گرمی تھی جو خدا تعالیٰ نے ان کو اندر سے عطا کر دی تھی اور یہ حیرت انگیز اعجاز تھا جو عام حالات میں ممکن نہیں ہے۔ان کی اکثریت جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ایسی تھی جنہوں نے کبھی قادیان کا منہ بھی نہیں دیکھا تھا مثلاً اڑیسہ کے غریب اور تو نگر احمدی ، دل کے امیر احمدی دو ہزار سے زائد تعداد میں یہاں پہنچے اور خدا کے فضل کے ساتھ ان کی کیفیت یہ تھی کہ دن بدن اُن کے اندر پاک تبدیلی پیدا ہوتی ہوئی دکھائی دیتی تھی۔جب آغاز میں ان سے تعارف ہوا تو ان کی نگاہوں میں کچھ تھوڑی سی اجنبیت تھی ، کچھ پہچان کی کوشش کر رہے تھے یہ جاننا چاہتے تھے کہ یہ کیا چیز ہے جو آج ہم دیکھ رہے ہیں اور کچھ فاصلہ سا تھا لیکن آنا فانا وہ فاصلے قربتوں میں تبدیل ہو گئے اور اسکے بعد ان کا جوش اور ولولہ نا قابلِ بیان تھا۔آج تک ہم نے کبھی کسی جلسہ سالانہ میں ایسے نظارے نہیں دیکھے جیسے ہندوستان کی دُور دُور سے آئی ہوئی جماعتوں کے اخلاص کے نظارے ہم نے دیکھے۔ان میں کیرالہ کے غرباء بھی تھے۔ان میں آندھراپردیش کے بھی تھے لیکن یہ ایسا موقع تھا جسمیں غرباء کو امراء سے الگ کرنا شاید زیادتی ہو۔یہ وہ موقع تھا جہاں واقعہ محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔جہاں کوئی تفریق نہیں رہی تھی۔سارے دل کے امیر دکھائی دیتے تھے۔سارے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور آپ کے اس غلام کامل کے شیدائی دکھائی دیتے تھے۔جس نے قادیان کی بستی میں جنم لیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے تمام دنیا میں اس کے دل سے نور کے سوتے پھوٹے۔پس یہ وہ نظارے ہیں جن کے بیان کی مجھ میں طاقت نہیں ہے۔شاید ویڈ یو والوں نے کچھ ریکارڈ کئے ہوں۔