دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 120 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 120

120 ہیں تو سب سے بڑی کامیابی یہی ہے۔اس سے بڑی اور کوئی کامیابی نہیں۔جلسہ سالانہ قادیان میں شمولیت کے روح پرور نظارے جلسہ سالانہ کے متعلق چند مختصر باتیں میں جماعت ہائے احمد یہ عالمگیر کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔وہ جلسہ کے بعد پہلی بار یہ خطبہ سن رہی ہیں۔اس لئے ان کو تو قع ہوگی کہ قادیان سے متعلق اور جلسہ سے متعلق میں اپنے کچھ تاثرات بیان کروں۔یہ مضمون بہت مشکل ہے کیونکہ دل کی جو کیفیات تھیں اور ہیں ان کا بیان ممکن نہیں۔ایک عجیب خواب کی سی دنیا سے نکل کر ہم آئے ہیں۔جو مناظر ہم نے جلسہ میں عشق اور محبت کے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی خاطر فدائیت کے نظارے دیکھے، تمام دنیا سے آئے ہوئے محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے پروانے اس بستی میں بہت تکلیفیں اٹھا کر جمع ہوئے۔ہندوستان کے کونے کونے سے اس کثرت سے احباب جماعت یہاں تشریف لائے کہ آج تک سو سالہ تاریخ میں کبھی ان جگہوں سے اس کثرت سے احباب جلسہ سالانہ میں شریک نہیں ہوئے۔بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں بھاری اکثریت غربت کا شکار ہے اور اتنی غربت کا شکار ہے کہ ان کے لئے ریل کے تیسرے درجہ کے سادہ دوطرف کے کرائے اکٹھا کرنا بھی ممکن نہیں تھا۔اللہ بہتر جانتا ہے کہ کس طرح انہوں نے قرض اٹھائے یا کسی اور صاحب دل آدمی نے ان کی ضرورت کو محسوس کر کے ان کی مدد کی مگر میں نے جو کثرت سے نگاہ ڈالی تو بھاری اکثریت ایسی تھی جو غرباء کی تھی مگر دل کے غنی تھے۔حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی یہ تعریف ان پر صادق آتی تھی کہ الغنى غنى النفس ( بخاری کتاب الرقاق حدیث نمبر: ۵۹۶۵) سنو ابغنی یعنی امیری اور تو نگری اصل میں دل کی امیری اور تو نگری ہوا کرتی ہے۔وہ دنیا کی تمناؤں سے بے نیاز اس بستی میں آپہنچے جہاں ان کو سکون ملنا تھا۔جس کی راہ وہ بڑی مدت سے دیکھ رہے تھے۔ان کی آنکھوں نے وہ دیکھا جس کے متعلق مجھے بہتوں نے کہا کہ ہمارے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا۔ہماری تمنائیں تھیں کہ ہم اپنی زندگی میں کبھی خلیفہ المسیح کو دیکھیں لیکن سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ایسے بوڑھے تھے جو معلوم ہوتا تھا کہ زندگی کے آخری کنارے پر پہنچے ہوئے ہیں۔ایسے اپانی تھے جو کرسیوں پر بیٹھ کر آئے۔ایسے بیمار تھے جن کو ان کے رشتہ داروں نے سہارے دیئے۔قطع