دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 6 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 6

6 سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔۲۳ را گست ۱۹۴۷ء کو قادیان سے شمالی جانب احمدی گاؤں فیض اللہ چک پر حملہ ہوا جس کے بارہ میں حضرت مصلح موعودہ ﷺ نے مکرم شیخ بشیر احمد صاحب کے نام حسب ذیل خط تحریر فرمایا: مکرمی شیخ صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ کل رات سے فیض اللہ چک احمدی گاؤں پر حملہ ہوا۔دودفعہ وہ لوگ پسپا ہوئے۔مگر پھر پولیس کی مدد سے جو جب بھی فیض اللہ چک کو غلبہ ملتا سکھوں کی مدد کرتی۔آخر گل قصبہ تباہ ہوا۔بہت سے آدمی مارے گئے۔دوہزار پناہ گزین قادیان رات کو آیا ہے۔اس وقت قادیان کی حالت بالکل بے بسی کی ہے کیونکہ ملٹری اور پولیس کا رویہ خطرناک ہو رہا ہے گو ظاہر انہیں۔اس وقت پیرا حسن الدین پر زور دیں کہ ایک ریفیوجی سنٹر قادیان بھی گھلوادیں۔جہاں چھ ہزار سے زائد پناہ گزین ہو چکا ہے اور اور لوگ آرہے ہیں۔اس طرح یہاں مسلمان ملٹری اور ایک مسلمان افسر رہ سکے گا۔جبکہ گورنمنٹ خود مخالفت کر رہی ہے میں سوچ رہا ہوں کہ آیا مقامات سے زیادہ آدمیوں کی حفاظت کی ضرورت نہیں۔حضرت صاحب کا ایک الہام بھی ہے کہ يَأْتِي عَلَيْكَ زَمَنْ كَمِثْلِ زَمَنِ مُوسیٰ یعنی موسیٰ کی طرح تجھ پر بھی ایک زمانہ آنے والا ہے۔سوممکن ہے عارضی ہجرت اس سے مراد ہو۔لیکن اب تک تو کنوائے ہی نہیں آیا۔حالانکہ کل اطلاع آئی تھی کہ آرہا ہے بٹالہ سے ہزاروں کی تعداد میں عورتیں بچے نکالے جارہے ہیں۔پیراحسن الدین صاحب کو کہہ کر کنوائیز کا انتظام کروادیں تو قادیان سے بھی عورتوں بچوں کو نکلوا دیا جائے مگر نارووال کی طرف۔“ ( تاریخ احمدیت جلد نمبر ، صفحہ: ۷۲۹،۷۲۸ ) حضرت مصلح موعود ﷺ کے خط سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ قادیان دارالامان میں بھی حالات لحظه به لحظہ تشویشناک ہورہے تھے اور صاف نظر آرہا تھا کہ عنقریب قادیان پر حملہ کرنے کا معتم