دورۂ قادیان 1991ء — Page 5
LO 5 باب دوم 66 ” داغِ ہجرت " الہام حضرت مسیح موعود ال ( تذکره صفحه: ۶۵۶) وصل کے عادی سے گھڑیاں ہجر کی کٹتی نہیں بار فرقت آپ کا کیونکر اٹھائے قادیان ( در عدن صفحه : ۶) قادیان سے ہجرت کے حالات کا مختصر خاکہ ۱۹۴۷ء میں جب ب تقسیم ہند ہوئی اور پاکستان معرض وجود میں آگیا تو ضلع گورداسپور ، جس میں قادیان واقع ہے ، ہندوستان میں شامل کر دیا گیا۔لہذا اس علاقے سے مسلمانوں کا انخلاء شروع ہو گیا۔اس انخلاء کے دوران مسلمانوں پر ظلم و تشدد کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔املاک کٹیں ، جانیں تلف ہوئیں ، گھر اجڑ گئے ، بہن بھائی ، ماں باپ اور بچے ایک دوسرے سے بچھڑ گئے، خاندان برباد ہو گئے ، حتی کہ ہجرت کرنے والے بہت سے قافلے اس وقت کی بربریت کا شکار ہوکر صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔اس وقت قادیان کی چھوٹی سی بستی ظلم وسفا کی کے اس طوفان میں امن کے ایک جزیرے کی حیثیت رکھتی تھی۔لیکن رفتہ رفتہ اس طوفان کی شوریدہ لہریں اس جزیرے سے بھی ٹکرانے لگیں۔یہاں تک کہ وہ وقت آگیا کہ حضرت مسیح موعود اس کے الہامات کے مطابق قادیان سے ہجرت ضروری ہو گئی۔چنانچہ جن اسباب و حالات کی بناء پر ہجرت کرنا پڑی اُن کا اندازہ درج ذیل تاریخی ریکارڈ