دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 59 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 59

59 میں نے جب بھی غور کیا ہے اور گہر ا غور کیا ہے اور نظر کو ہر طرف دوڑایا اور پھیلایا اور سوچا کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے احسانات کا احاطہ کر سکوں اور ان کے متعلق ایک ایسا شعور پیدا کرسکوں کہ ہر دفعہ اس احسان کو پہچان لوں تو میں اس کوشش میں ہار گیا اور کوشش کے باوجود آج بھی میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ بہت سے احسانات ہیں جو ہم پر وارد ہوتے چلے جاتے ہیں اور ہم غفلت کی حالت میں ان سے آگے نکلتے چلے جاتے ہیں۔صبح جب آپ اٹھتے ہیں اور اپنے بدن کو پاک اور صاف کرتے ہیں، خدا تعالیٰ کی یاد کی طرف دل کو لگاتے ہیں تو کتنے ہیں جو باقاعدہ بلا استثنا حضرت محمد مصطفی ﷺ کا تصور دل میں لاتے ہیں یالا سکتے ہیں کہ یہ ہمارے آقا و مولیٰ کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں اچھی صبح کا آغاز سکھایا۔یا پھر سارا دن آپ کا مختلف حالتوں میں گزرتا ہے ، کہیں بدیوں سے بچنے کی کوشش میں ، کہیں نیکیوں کی طرف میلان کی صورت میں کہیں کسی غریب پر رحم کے نتیجے میں آپ کے دل میں ایک خاص روحانی لہر دوڑ تی ہے لیکن کتنے ہیں جو سوچتے ہیں کہ یہ سب فیوض حضرت محمد مصطفی ماہ ہی کے فیوض ہیں۔آپ نے سب کچھ سکھایا ہے، ایسے کامل معلم ، ایسے کامل مربی کہ آپ نے انسانی ضرورتوں کی ہر چیز کا احاطہ کر لیا۔یہ درست ہے کہ یہ احاطہ خدا تعالیٰ کے اس پاک کلام نے کیا جو آپ پر نازل ہوالیکن اس لامتناہی پاک کلام کے فیوض کو اپنی ذات میں جاری کر کے ایک نمونہ بن کر ہمارے سامنے ابھرے۔یہ احسان ہے جو حضرت محمد مصطفی ﷺ کا احسان ہے ورنہ وہ پاک کلام ہماری حد ادراک سے باہر رہتا۔ہم قرآن آج بھی تو پڑھتے ہیں۔کتنے ہیں جو قرآن کے معارف کو براہِ راست پاسکتے ہیں اور ان کے مطالب کو پہنچ سکتے ہیں۔لیکن وہ مطالب جو ہم نے پالئے اور ان میں سے بھی بہت سے ہیں جو ہماری نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔اگر آپ مزید غور کریں تو آپ کا دل اس یقین سے بھر جائے گا کہ یہ تمام فیوض جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ابتداء جاری ہوئے اگر حضرت محمد مصطفی ملے ان فیوض سے اپنا کوثر بھر کر ہمارے لئے ہمیشہ کیلئے جاری نہ فرماتے تو ہم ان فیوض کو پا نہیں سکتے تھے۔ان کو سمجھ بھی نہیں سکتے تھے۔ان کی تفاصیل سے لاعلم اور جاہل رہتے اس لئے یہ درست ہے کہ ہر برکت کا آغاز خدائے واحد و یگانہ سے ہے۔لیکن بعض انسانوں کو وہ تو فیق عطا فرماتا ہے کہ ادنیٰ درجہ