دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 42 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 42

42 سو کے قریب تھی ) کچھ رقم دینے کے لئے مکرم نصیر احمد صاحب قمر پرائیویٹ سیکرٹری کو ارشاد فرمایا۔دو پہر دو بجے یہاں سے احمد یہ مسجد دہلی کیلئے واپسی ہوئی۔ان مقامات کی سیر کے دوران انڈین پولیس کے جوان حفاظت کی غرض سے ہمراہ رہے۔مسجد بیت الہادی دہلی میں نماز ظہر وعصر جمع کر کے ادا کی گئیں اور شام کو بعد ادائیگی نماز مغرب وعشاء مجلس عرفان منعقد ہوئی۔( حضرت مسیح موعود الا نے یکم نومبر ۱۹۰۵ء کو حضرت خواجہ بختیار کاکی کے مزار پر لمبی دعا کی۔(ملفوظات جلد ۴ صفحہ ۵۲۸) اسی طرح حضور اللا ۲۴ اکتوبر ۱۹۰۵ء کو دہلی میں بزرگان امت کی زیارت قبور کے لئے تشریف لے گئے۔(ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۳۸۸) ۱۹ دسمبر ۱۹۹۱ء بروز جمعرات۔دہلی دہلی سے قادیان روانگی ۱۹ار دسمبر کو حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ ودیگر اراکین قافلہ کوحسب پروگرام دہلی سے بذریعہ ہوائی جہاز امرتسر روانہ ہونا تھا مگر شدید دھند کی بناء پر گزشتہ تین روز سے امرتسر کے لئے دہلی کے لئے تمام پرواز میں ملتوی ہو چکی تھیں چنانچہ بذریعہ ریل گاڑی روانگی کا پروگرام طے پایا۔اس غرض سے شانِ پنجاب ایکسپریس میں ۹۰ سیٹوں پر مشتمل ایک خصوصی اضافی ہوگی لگوائی گئی۔ٹرین کو دہلی ریلوے اسٹیشن سے امرتسر کیلئے صبح ۶:۴۰ پر روانہ ہونا تھا۔حضور اقدس ساڑھے چھ بجے اسٹیشن پر تشریف لائے۔لندن سے دہلی تک آپ کی معیت میں سفر کرنے والے قافلہ کے علاوہ مختلف ممالک سے صد سالہ جلسہ سالانہ قادیان میں شرکت کرنے والے افراد اور وفود کے شامل ہو جانے سے گل تعداد ۸ ہوگئی۔علاوہ ازیں پانچ سرکاری پولیس کانسٹیبلز بھی اس قافلہ کے ہمراہ تھے۔جماعت احمد یہ دہلی اور دور و نزدیک کی جماعتوں سے آئے ہوئے ۵۰ سے زائد احباب پیارے آقا کوالوداع کہنے کی غرض سے اسٹیشن پر موجود تھے۔حضور قریباً پندرہ منٹ تک ٹرین کے دروازہ میں کھڑے رہے۔آپ کی شخصیت سے متاثر ہو کر ہر کوئی رکتا اور پھر جی بھر کر اپنی نظروں کی تشنگی مٹا کر جاتا۔اسی طرح ایک سکھ دوست آگے بڑھ کر آپ کی خدمت میں اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کر کے پوچھنے لگے کہ امن کب آئے گا؟ آپ نے فرمایا: ” میری بھی یہی خواہش ہے کہ امن قائم ہواور میں اس کے لئے 66 دعا کرتا ہوں۔“