دورۂ قادیان 1991ء — Page 262
262 قادیان دارالامان سے ہجرت، جماعت احمدیہ کی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے۔یہ ہجرت اگر محض ہجرت ہوتی تو وقت اس زخم کو مندمل کرنے کے لئے کافی تھا لیکن یہ تو ہجر کا ایسا آزار تھا جس نے ہجر زدوں کو ہمیشہ تڑپائے رکھا۔حضرت مصلح موعودؓ نے افراد خاندان مبارکہ اور دیگر افراد جماعت کے ہمراہ سرزمین قادیان کو الوداع کہا تو اس کے بعد اس پاک بستی کے دیدار کے لئے اپنی پرسوز اور جاں گداز کیفیتوں کا اظہار فرماتے رہے قادیان سے جدائی ایک مسلسل کرب تھا جو ایک پھانس بن کر دلوں میں اٹک گیا۔میسیج پاک کی پیاری بستی اہل دل کے خوابوں کی بستی بن گئی۔ہر چند کہ جماعت کے مرکز ثانی ربوہ کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے آسودگی دل اور راحتِ جاں کا ساماں عطا فرما دیا لیکن قادیان کی کشش دلوں کو کھینچتی تو آہیں فریاد بن کر لبوں پر آجاتیں۔خاک ارض قادیاں کے گوہر تاب ذرے آنسو بن کر نگاہوں میں فروزاں ہونے لگتے۔سوز نہاں بے قراری دل میں اضافہ کر دیتا اور سوتے سوتے بھی یہ کہہ اٹھتا ہوں ہائے قادیاں“ کی کیفیت اپنے حصار میں لے لیتی۔ان دلی کیفیتوں کا اظہار جماعت کے شعراء اور اہل قلم نے اپنے مضامین نظم ونثر میں جس اثر انگیز پیرائے میں کیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قادیان سے جدائی کا واقعہ ایسا غیر معمولی واقعہ تھا جس نے دلوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔قادیان سے ہجرت کے سفر میں شامل اکثر ہستیاں اب اس دنیا میں نہیں ہیں لیکن ان کے جذبات آج بھی زندہ ہیں۔ان کا یہ سرمایہ احساس احمدیت کی نئی نسل کو منتقل ہو چکا ہے جن کی عقیدت ومحبت نے اس مقدس سرزمین کی تصویر اپنے بزرگوں کی نگاہوں میں دیکھی اور اس کا نقشہ اپنے تصور کی آنکھ میں محفوظ کر لیا ہے۔اللہ تعالیٰ کے عجیب تصرفات ہیں کہ وہ اپنی جماعتوں اور مقرب بندوں کو امتحان میں ڈالتا اور ان کی قلبی صفائی اور ذہنی تربیت کا خود اہتمام فرما تا ہے۔چنانچہ ہجرت اول کے بعد ہجرت ثانی بھی جماعت کے مقدر میں لکھی گئی۔جب حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کے نامساعد حالات کے سبب دارالہجرت ربوہ سے ہجرت کر کے لندن میں ورود فرمایا۔در دو الم کی یہ داستان دہرانے کے لئے حوصلہ اور ہمت درکار ہے۔اپنے محبوب امام سے جدائی کی ان کیفیتوں کو اہل ربوہ سے زیادہ کون محسوس کر سکتا ہے حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی پون صدی پر محیط