مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 78 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 78

مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 78 قبول نہ فرماتا۔خدا کی طرف سے اسے ضرور بتادیا گیا ہو گا کہ اس کی دعا قبول کر لی گئی ہے۔میں اس بات کو قطعاً تسلیم نہیں کرتا کہ آخری سانس مسیح نے صلیب پر لیا اور صلیب پر لٹکی ہوئی حالت میں اس نے جان دی۔میرے نزدیک اس سارے واقعہ میں جیسا کہ میں سمجھتا ہوں کوئی تضاد نہیں ہے بلکہ اس میں پوری پوری ہم آہنگی اور مکمل مطابقت پائی جاتی ہے۔مسیح کی مزعومہ موت کی حیثیت اس سے زیادہ کچھ نہ تھی کہ موقع پر موجود ایک شخص نے یہ تاثر لیا کہ گویاوہ مر گیا ہے۔جس شخص نے اس کی طرف دیکھا اور یہ تاثر لیا وہ کوئی معالج یا حکیم نہ تھا اور نہ اسے مسیح کے جسم کا طبی نقطہ نگاہ سے معائنہ کرنے کا موقع ملا۔ایک شخص جو وہاں کھڑا دیکھ رہا تھا اور جسے یہ فکر اور تشویش لاحق تھی کہ کہیں اس کے محبوب آقا کو موت نہ آلے اس نے دیکھا کہ مسیح کا سر ایک طرف ڈھلک گیا ہے اور اس کی ٹھوڑی اس کے سینہ پر آنکی ہے تو یک لخت یہ تاسف بھرا کلمہ اس کے منہ سے نکلا کو دیکھو اس نے جان دے دی لیکن جیسا کہ ہم پہلے واضح کر چکے ہیں کہ ہماری معروضات کی حیثیت کسی ایسے مقالہ کی نہیں ہے جس میں ہم اسناد کی رو سے بائبل کے بیان پر جرح کریں اور اس کے اصلی یا موضوع ہونے پر بحث کریں یا اس کی کسی تشریح و توضیح کو موضوع بحث بنائیں۔ہمارا مقصد تو مسیحی فلاسفی اور عقیدہ کا عقل اور منطق کی رو سے صرف تنقیدی جائزہ لینا ہے۔اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو دونوں صورتوں میں یعنی اس صورت میں بھی کہ مسیح پر بے ہوشی طاری ہوئی اور اس صورت میں بھی کہ موت نے اسے آلیا ایک بات بالکل واضح ہے کہ بنظر ظاہر جو کچھ ہونے والا تھا اس پر مسیح کا دکھ بھرے دل کے ساتھ حیران ہونا اس امر پر دال ہے کہ جو کچھ ہو رہا تھا وہ اس کی توقع کے خلاف تھا۔اس کے نزدیک تو ماسوا اس کے کچھ اور ہی متوقع تھا۔اگر وہ برضاور غبت موت کا ہی متلاشی تھا اور بہر صورت و بہر حال مرنا ہی اس کے مد نظر تھا تو پھر اس نے جس حیرت کا اظہار کیا اس کا سرے سے کوئی جواز بنا ہی نہیں۔احمدی مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارے نزدیک اس تمام صورت حال کی تشریح و توضیح ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ اس وقت حیران ہونے کی وجہ یہ تھی کہ واقعۂ صلیب سے قبل کی رات اس کی مناجاتوں اور التجاؤں کے نتیجہ میں خدا نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ اسے صلیبی موت سے بچایا جائے گا اور وہ اس سے محفوظ رہے گا۔اس وعدہ کے باوصف خدا کی وراء الورا تدبیر کچھ اور تھی۔اس نے صلیب پر لٹکی ہوئی حالت میں مسیح پر بے ہوشی طاری ہونے دی تا کہ پہرہ دار جنہیں وہاں خاص طور پر متعین کیا گیا تھا وہ مغالطہ میں پڑ جائیں اور یہ سمجھ بیٹھیں کہ وہ مر گیا ہے اور اس کی نعش کو یوسف آف آرمتیاہ نامی شخص کے حوالہ کر دیں کہ وہ اس نعش کو اس کے عزیزوں اور دوستوں تک پہنچا دے۔اس موقع