مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 77
77 صلیب اور اس سے متعلقہ امور اٹھتا ہے کہ اس سے تو مسیح اور یونس نبی کے مابین پائی جانے والی مماثلت کی اصل نوعیت ظاہر ہوئے بغیر نہیں رہتی۔یونس نبی کے متعلق فرض یہ کر لیا گیا ہے کہ وہ تین دن رات مچھلی کے جسم کے اندر رہا۔عین ممکن ہے کہ اسے بھی مسیح کی طرح خدا کی مخفی تدبیر کے بموجب تین دن کی بجائے تین گھنٹے میں چھٹکارامل گیا ہو۔پس جو کچھ مسیح پر بیتی یا اس کے ساتھ ہوا اس کی حیثیت ایک آئینہ کی سی ہے جس میں ہم یونس نبی کے واقعہ کو عملاً دہرائے جانے کے رنگ میں منعکس ہوتا دیکھ سکتے ہیں۔اب ہم مسیح کو صلیب دیئے جانے کے دوران پیش آنے والے واقعات کی طرف لوٹتے ہیں۔یہ امر ظاہر و باہر ہے کہ مسیح آخری لمحہ تک ایک رنگ میں اپنے اس احتجاج پر قائم رہا کہ ”ایلی ایلی لما شبقتنی “ یعنی اے میرے خدا! اے میرے خدا! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔کتنا گہرا المناک اور کتنا پر درد اظہار ہے اس غلط فہمی کا جس میں مسیح مبتلا تھا۔مسیح کے اس پر درد اظہار میں کس قدر دقیقہ سنجی اور باریک بینی کے رنگ میں کسی ایسے وعدہ اور یقین دہانی کی طرف اشارہ مضمر ہے جو ”باپ خدا“ نے کسی وقت ” بیٹے“ سے کیا ہو گا۔بصورت دیگر افسوس اور ملال کا یہ اظہار بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔اگر اسے محض اظہار ملال قرار دیا جائے تو اس سے دو باتوں کی نفی لازم آتی ہے۔اول اس امر کی کہ مسیح نے خود اپنی خواہش اور مرضی سے رضا کارانہ طور پر دوسرے لوگوں کے گناہوں کا بوجھ اپنے کندھوں ہر اٹھایا۔دوسرے نفی لازم آتی ہے اس امر کی بھی کہ دکھ اور مصیبت کی اس گھڑی میں اس نے مردانگی اور خوش دلی سے موت کا سامنا کیا۔اس سارے معاملہ کا جائزہ لیا جائے تو پہلی بات جو ذہن میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ جب مسیح نے سزا بھگتنے پر بخوشی آمادگی کا اظہار کر کے اس سزا کے لئے خود اپنے آپ کو پیش کیا تھا تو گہری آہ کے رنگ میں اس کے منہ سے یہ یاس انگیز چیچ کیوں نکلی؟ پھر مزید یہ کہ ایسی صورت میں شکوہ سنجی اور طعنہ زنی کی نوبت کیوں آئی؟ اور پھر اس مصیبت سے چھٹکارے کے لئے دعا ہی کیوں مانگی؟ برضاور غبت رضا کارانہ طور پر پیش کی جانے والی قربانی کے پیش نظر اس کی تو سرے سے نوبت ہی نہیں آنی چاہیے تھی۔اور صلیب دیئے جانے سے قبل جو کچھ وقوع میں آیا اس کے سیاق و سباق میں بھی دیکھا جائے تو بھی یہ سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے کیونکہ لکھا ہے کہ وہ تمام وقت خدا سے مسلسل یہی دعا مانگتا رہا کہ تلخ پیالہ اس سے ٹل جائے اور یہ کڑوا گھونٹ اسے حلق سے نہ اتارنا پڑے۔ہم احمدی ہونے کی حیثیت میں اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ مسیح ایک مقدس، نیک اور پارسا انسان تھا۔یہ ناممکن تھا کہ اس کڑے وقت میں مصیبت سے چھٹکارے کے لئے اس نے جو دعا مانگی تھی خدا اسے