مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 71 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 71

71 صلیب اور اس سے متعلقہ امور کریں۔برخلاف اس کے جن لوگوں کا دعوی یہ ہے کہ وہ لازمی طور پر فوت ہو گیا ہو گا ان کے اس دعویٰ کو قوانین قدرت کی تائید و حمایت حاصل ہے۔ان سے پہلے سے جاری و ساری قوانین قدرت سے بڑھ کر کسی اور ثبوت کا مطالبہ کر ناسر اسر بے معنی ہو گا۔بصورت دیگر جس کا جی چاہے گا وہ یہ دعویٰ کر بیٹھے گا کہ اس کے دادا کے دادا کا دادا مرا ہی نہیں۔اگر ایسا دعوی کرنے والا ہر کسی کو چیلنج دیتا پھرے کہ وہ اس کے اس دعوے کو جھوٹا ثابت کر دکھائے تو اس پر مسیحی صاحبان کا کیار د عمل ہو گا؟ سوچنے والی بات ہے کہ ایک سننے والا ایسے نرالے اور عجیب و غریب چیلنج کا کیا جواب دے گا؟ اس کا ایک ہی جواب ہے جو وہ دے سکتا ہے اور یقینا دے گا کہ قوانین قدرت کا ہر انسان پر لاگو ہونا ایک لازمی امر ہے۔کسی کا ان سے بچ نکلنا ممکن ہی نہیں۔اگر کوئی ایسے دعوے کر رہا ہے جو قوانین قدرت کے خلاف ہیں تو ثبوت مہیا کرنے کا وہ خود ذمہ دار ہے نہ کہ کوئی اور۔سو مسیحی صاحبان کے اعتراض یا مطالبہ کا پہلا جواب تو یہ ہے اور یہ ہے بھی واضح اور نا قابل تردید۔تاہم میں ایک دوسرے نقطۂ نگاہ سے اس سارے معاملہ کو واضح کرنے کی ایک اور کوشش کرتا ہوں۔خدا کے ساتھ مسیح کا جو بھی رشتہ تھا ( یعنی عیسائیوں کے بقول وہ خدا کا بیٹا بھی تھا اور ازل سے اس میں مدغم ہونے کے باعث اپنی ذات میں خود خدا بھی تھا) سوال یہ ہے کہ کیا اس رشتہ کی رو سے مسیح مرنے اور موت کا مزہ چکھنے سے بالا تھا؟ مسیحی صاحبان کا خود اس بات پر ایمان ہے کہ مسیح فوت ہوا اور اس نے موت کا مزہ چکھا۔خدا کا بیٹا اور خود خدا ہونے کی حیثیت میں اگر مرنا اس کی فطرت کے خلاف تھا تو پھر دوٹوک بات یہ ہے کہ اسے مرنا نہیں چاہیے تھا۔لیکن ہم سب (یعنی مسیحی بھی اور ہم ایسے غیر مسیحی بھی) اس بات پر متفق ہیں کہ خواہ ایک بار سہی وہ مرا ضرور۔تحقیق طلب امر صرف یہ ہے کہ وہ کب مرا؟ اس کی موت صلیب پر واقع ہوئی یا بعد میں کسی اور وقت۔اس کے مرنے اور موت کا مزہ چکھنے میں کسی کو کوئی شبہ نہیں نہ خود مسیحیوں کو اور نہ ہم جیسے غیر مسیحی مسلمانوں کو۔یونس نبی کا نشان اب ہم بائبل کے رو سے ثابت کرتے ہیں کہ خدا نے مسیح کو بے آسرا نہیں چھوڑا اور اسے صلیبی موت سے بہر طور بچائے رکھا۔یہ ایک ایسا واضح امر ہے کہ اس کا مطالعہ جیسا کہ عہد نامہ جدید میں مذکور ہے صلیب دیئے جانے سے پہلے کے زمانہ سے تعلق رکھنے والے حقائق کی روشنی میں بھی کیا جاسکتا ہے اور اسی