مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 49
49 گناہ اور کفارہ وہ انسانی شخصیت جو مسیح میں مدغم تھی اس کا اس حد تک انسان ہونا ضروری تھا کہ وہ گناہ کے موروثی میلان کا حصہ دار ٹھہر سکتا۔اور اگر یہ کہا جائے کہ وہ گناہ کے موروثی میلان کا ورثہ پانے سے بری تھا تو لازماً سوال پیدا ہو گا کہ ایسا کیوں ہوا اور اگر ہوا تو ہوا کیسے؟ یہ امر ظاہر وباہر ہے اور اسے بیان کرنے کی چنداں ضرورت بھی نہیں کہ مسیح کی شخصیت میں موجود انسان اپنے الوہیت کے حامل ساتھی سے یکسر مختلف ہونے کے باعث اپنی آزاد حیثیت میں ضرور گناہ کرتا اور اپنے کردہ گناہ کی تمام تر ذمہ داری خود اپنے انسانی کندھوں پر اٹھاتا۔یہ تمام روداد یا منظر نامه مکمل قرار نہیں پائے گا جب تک کہ ہم مسیح ابن اللہ کو اس طور پر پیش نہ کریں کہ وہ نوع انسان کی خاطر مرنے اور جان دینے میں باطنی خلش سے یکسر مبرا نہ تھا۔اس کو اپنے ادھورے بھائی کی جو اس کی شخصیت میں موجود تھا ضرور فکر لاحق ہوئی ہوگی کہ وہ بے چارہ اس کے ساتھ بلاوجہ دکھ اٹھا رہا ہے۔اس تمام و قوعہ کو اس کی لا یخل پیچیدگیوں کے باعث عقلی اور ذہنی طور پر ہضم کرنا اگر ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل اور غایت درجہ محال ضرور ہے۔اس کے بالمقابل ہمارے نقطۂ نگاہ سے فی الحقیقت جو کچھ ظہور میں آیا امر واقعہ کے طور پر اس میں قطعا کوئی قباحت نہیں۔اور وہ نقطہ نظر یہ ہے کہ کسی دوئی یا دہری شخصیت کے مخمصہ میں پھنسے بغیر مسیح بہر حال ایک انسان تھا اور صلیب پر اس معصوم انسان کے منہ سے حیرت اور الم و کرب میں ڈوبی ہوئی جو چیخ نکلی وہ اس وقت کی مخصوص اور پریشان کن صورت حال کا ایک لازمی تقاضا تھی۔قدرتی طور پر مسیح کو لاحق ہونے والی تشویش میں ایک دفعہ پھر یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ایسا ہر گز نہیں ہے کہ (نعوذ باللہ) میں مسیح علیہ السلام پر ایمان نہیں رکھتا۔میں یقیناً ان کے منجانب اللہ ہونے پر ایمان رکھتا ہوں اور خدا تعالیٰ کے مبعوث کر دہ ایک پیغمبر کی حیثیت سے ان کا بے حد احترام کرتا ہوں اور ان سے گہری عقیدت رکھتا ہوں اور کیوں نہ رکھوں جبکہ وہ ایک ایسے نبی تھے جنہیں خدا تعالیٰ کی راہ میں غیر معمولی قربانیاں دینا پڑیں۔میرے ایمان اور اعتقاد کی رو سے مسیح اپنی تمام تر پاک بازی اور تقدس کے باوجو د تھے ایک انسان۔انہیں ابتلا اور آزمائش کے ایک طویل دور میں سے گزرنا پڑا۔اس وضاحت کے بعد میں جس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ خود انجیل کے بیان کی رو سے واقعۂ صلیب کی جو تفاصیل ہمارے سامنے آتی ہیں اور پھر جس رنگ میں یہ واقعہ اپنے اختتام کو پہنچتا ہے اس تمام صورت حال کے پیش نظر یہ باور کرنے کے سوا چارہ نہیں رہتا کہ مسیح نے