مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 36
مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 36 دونوں ہی کو ایسے جرم کی سزا بھگتنا پڑے گی جو انہوں نے کیا ہی نہیں۔اگر ہم ان تمام مختلف النوع گناہوں کی کثرت کو تصور میں لانے کی کوشش کریں جو میسحیت کے آغاز سے لے کر کرہ ارضی پر حیات انسانی کے انجام و اختتام تک کے زمانہ میں بنی نوع انسان سے آج تک سرزد ہوئے ہیں اور آئندہ سرزد ہوتے چلے جائیں گے تو بے انداز و بے حساب گناہوں کے غیر مختم سلسلہ ہائے دراز کی نا پیدا کنار کیفیت سے انسانی دماغ چکرا کر رہ جاتا ہے۔کیا گناہوں کے یہ تمام طول و طویل سلسلے مسیح کے کھاتہ میں منتقل کر اس بے چارے کے نام محسوب کر دیئے گئے ہیں؟ کیا گناہوں کے یہ سب انبار کوزہ میں دریا کی طرح ان تین دن اور تین راتوں میں مرکوز و مرتکز کر دیئے گئے تھے جنہیں عیسائیوں کے اعتقاد کے بموجب مسیح نے اذیتیں برداشت کرنے میں گزارا؟ انسانی دماغ یہ سوچ سوچ کر ورطۂ حیرت میں پڑے بغیر نہیں رہتا کہ گناہگاروں کا نا پیدا کنار سمندر جو گناہوں کے مہلک اثر سے زہر ہلاہل میں تبدیل ہو چکا ہے کس طرح ان گناہگاروں کے مسیح پر ایمان لانے سے ایکا ایکی ٹھنڈے اور میٹھے آب زلال میں تبدیل ہو جائے گا؟ ایک دفعہ پھر انسانی تصور ماضی بعید کے دور دراز زمانہ کی طرف لوٹ جاتا ہے جو بے چارے آدم و حوا سے انجانے میں پہلا گناہ سرزد ہوا اور ہوا بھی اس لئے کہ شیطان نے بڑی ہوشیاری اور عیاری سے انہیں دھوکا دے کر اپنے جال میں پھنسا لیا۔سوچنے والی بات ہے ان بے چاروں کا گناہ کیوں نہ ڈھل سکا؟ کیا وہ خدا کی ہستی اور اس کی قدرتوں پر ایمان نہیں رکھتے تھے ؟ کیا ”باپ خدا پر ایمان لانا ایک کمتر درجہ کی نیکی تھی ؟ کیا ان کا ایمان باللہ گناہ کے اثر کو زائل کرنے کے لئے کافی تھا؟ اور کیا یہ بھی ان کا قصور شمار ہو گا کہ انہیں کبھی بتایا ہی نہیں گیا کہ خدا کا ایک بیٹا بھی ہے جو اپنے باپ خدا کے ساتھ ازل سے قائم و دائم چلا آرہا ہے ؟ اس ” آسمانی مقدس بیٹے نے ان پر کیوں رحم نہ کھایا اور ”باپ خدا“ سے کیوں التجا نہ کی کہ ان کے گناہ کی پاداش کے طور پر خود اسے یعنی ” بیٹے کو سزا دے کر انصاف کا تقاضا پورا کر لیا جائے ؟ انسانی دماغ میں رہ رہ کر یہ خیال اٹھتا ہے کہ اے کاش! ایسا ہی ہوا ہوتا۔یہ کتنا مبنی بر انصاف، آسان اور سہل ہو تا کہ جب آدم اور حوا نے پہلی لغزش کھائی تھی انہیں اسی لمحہ سزا دے کر بات قصہ زمین بر سر زمین کے طور پر وہیں کے وہیں ختم کر دی جاتی۔یقیناً ایسی صورت میں خود مسیحیوں کے نزدیک بھی کتاب التقدیر میں نوع انسان کی کہانی بالکل اور انداز سے لکھی جاتی۔اس کی بجائے ایک جنت ارضی کی تخلیق عمل میں آتی اور آدم و حوا کی اپنی نامعلوم نسلوں سمیت جنت سے ہمیشہ ہمیش کے لئے نکالا نہ ملتا۔اسی زمانہ قدیم میں آدم و حوا کے