مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 10 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 10

مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 10 مسیح کی ابنیت سے پیدا ہونے والے اشکال ( مسیح خدا کا بیٹا) یسوع مسیح کی ذات، مقام اور خدا سے اس کے تعلق کے بارہ میں عیسائی حضرات کی تفہیم کچھ اس نوعیت کی ہے کہ اسے تسلیم کرنے سے کئی لاینحل مسائل سر اٹھائے بغیر نہیں رہتے۔مسیحی عقیدہ کے مزید تنقیدی اور تجزیاتی مطالعہ سے جو بات ابھر کر سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ خدا کا ایک بیٹا ہے جو بیک وقت مکمل انسان اور مکمل خدا دونوں کی خصوصیات اپنے اندر رکھتا ہے۔یہ بات ذہن میں رکھنی ضروری ہے کہ عیسائیوں کے عقیدہ کی رو سے اگر دیکھا جائے تو باپ بعینہ بیٹے جیسا نہیں ہے۔باپ اپنی ذات میں ایک مکمل خدا ہے لیکن وہ مکمل انسان نہیں ہے۔جبکہ بیٹا مکمل خدا بھی ہے اور مکمل انسان بھی۔اس لحاظ سے اس کی رو و شخصیتیں ہیں اور بلحاظ خصوصیات دونوں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔یہ بات قابل غور ہے کہ یہ خصوصیات ایسی ہیں جو باہم ایک دوسرے میں منتقل نہیں ہو سکتیں۔بعض مادوں میں ایسے خواص ہوتے ہیں جو قابل انتقال ہونے کے باعث مختلف شکلوں میں منقلب ہو سکتے ہیں۔مثال کے طور پر پانی ہی کو لے لیں۔یہ اپنی اصلیت اور اجزائے ترکیبی میں کوئی فرق لائے بغیر برف اور اسی طرح بخارات میں تبدیل ہو سکتا ہے لیکن خدا اور مسیح کے امتیازی اوصاف (جبکہ ان دونوں میں سے ایک میں بعض اوصاف کا اضافہ کر دیا گیا ہے) باہم ایک دوسرے سے آگ اور پانی کی طرح میل کھا ہی نہیں سکتے۔ان میں سے ایک کے لئے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ دوسرے جیسی قلب ماہیت اختیار کر سکے یا اس کی طرح اپنی کا یا پلٹ سکے اور پھر بھی مسیحی عقیدہ کی رو سے یہ ماننا ضروری ہے کہ دونوں باہم اس طرح ایک جیسے ہیں کہ ان میں فرق کرنا ممکن نہیں۔ایک مسئلہ اور بھی ہے اور وہ فی ذاتہ ہے بھی بہت گھمبیر۔وہ یہ ہے کہ کیا واقعی مسیح مکمل خدا ہونے کے ساتھ ساتھ مکمل انسان بھی تھا۔یہ سوال اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ واقعی ایسا ہی تھا تو اننا پڑتا ہے کہ وہ باپ سے مختلف تھا کیونکہ باپ نے تو بیٹے کی طرح کبھی مکمل انسان کا روپ اختیار کرنے کا سوال بھی پیدا نہیں ہوا۔یہ کس قسم کی رشتہ داری تھی دونوں کے مابین؟ کیا بیٹا درجہ میں باپ سے بھی بڑا تھا ؟ اگر بیٹے کو مکمل انسان ہونے کے اضافی وصف نے کسی بڑائی یا فضیلت سے ہمکنار نہیں کیا تو پھر یہ اضافی وصف، وصف نہ رہا بلکہ ٹھہرا ایک نقص۔اس لحاظ سے بیٹا خدا کے مقابلہ میں ناقص ثابت ہوئے بغیر نہیں رہتا۔یہ امر ظاہر و باہر ہے کہ خدا کے ناقص بیٹے کا تصور نہ صرف مسیحی عقیدہ اور دعویٰ کے بر خلاف ہے بلکہ خود خدا کے بیٹے