مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 8
مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 8 کوئی نہ کوئی ایسی قدرتی تبدیلی ضرور واقع ہوئی جو اس کے ہاں ہونے والی ولادت کو ایک معجزانہ ولادت بنانے کا موجب بنی اور یہ تبدیلی قوانین قدرت کے تحت ہی وقوع میں آئی۔ولادت مسیح کے بارہ میں احمدی مسلمانوں کا بعینہ یہی عقیدہ ہے اور یہ ایک ایسا پختہ عقیدہ ہے جس میں کوئی جھول یا کمزوری نہیں۔کوئی سائنس دان اسے نامعقول یا معلومہ قوانین قدرت کی خلاف ورزی قرار دے کر اسے مسترد نہیں کر سکتا۔یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ اسلام کی رُو سے جو واقعات معجزات قرار پاتے ہیں وہ قوانین قدرت سے ماورا اور مافوق الفطرت نہیں ہوتے۔وہ قدرت کے ایسے غیر معمولی واقعات ہوتے ہیں کہ اس وقت تک ان کے اسباب و علل تک انسانی علم کی رسائی نہیں ہوئی ہوتی۔اگر ایسا نہ ہو تا تو اس کی حکمت و دانائی پر کئی طرح کے اعتراضات کا وارد ہونا ناگزیر ٹھہر تا۔ظاہر ہے کہ اگر قوانین قدرت خود خدا کے وضع کردہ ہیں تو پھر اُس نے اِس امر کی بھی گنجائش رکھی ہے کہ وہ انہیں توڑے بغیر کسی بھی مسئلہ کا مطلوبہ حل نکال لیتا ہے۔پھر اس امر کر ملحوظ رکھنا بھی ضروری ہے کہ انسان کا علم تمام قوانین قدرت پر محیط نہیں ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔اسے قوانین قدرت کا رفتہ رفتہ علم ہوتا چلا آرہا ہے۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ قوانین قدرت کئی درجوں میں منقسم ہیں اور بلند ہوتی ہوئی مختلف سطحوں اور درجوں میں ان کی کار فرمائی جاری وساری ہے۔بعض اوقات انسان کو صرف ایک سطح پر رو بعمل آنے والے قوانین کا علم ہو پاتا ہے۔اس سے آگے اس کی نگاہ کام نہیں کر رہی ہوتی۔جوں جوں وقت گزرتا اور آگے بڑھتا ہے انسان کے علم میں اضافہ ہو تا چلا جاتا ہے اور اسی نسبت سے ایسے قوانین قدرت میں جھانکنے اور انہیں دریافت کرنے کی اہلیت اس میں بڑھتی رہتی ہے جو پہلے اس کے لئے پوشیدہ ہوتے ہیں۔سائنسی ترقی کے ہر نئے دور میں نئی دریافتوں کی وجہ سے بعض ایسے مزید قوانین قدرت انسان کے علم میں آتے ہیں جو گروپس کی شکل میں جاری و ساری رہ کر اپنی کار فرمائی دکھارہے ہوتے ہیں۔اس طرح انسان نہ صرف ان کے وسیع پیمانہ پر متحرک رہنے کو بہتر رنگ میں سمجھنے کے قابل ہو جاتا ہے بلکہ یہ امر بھی اس کے علم میں آجاتا ہے کہ کس طرح باہم ایک دوسرے پر اثر انداز ہو رہے ہوتے ہیں۔انسانی علم میں رفتہ رفتہ اضافہ کی وجہ سے جو واقعات ابتدائی ادوار میں معجزے نظر آتے ہیں بعد ازاں وہ انسان کی نظر میں معجزے نہیں رہتے کیونکہ ان کے اسباب کا اسے علم ہو جاتا ہے۔ایک مخصوص زمانہ میں انسان نے علم میں جس حد تک ترقی کی ہوئی ہوتی ہے اس کی نسبت سے ہی بعض واقعات معجزہ قرار پاتے