مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 145 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 145

145 مسیحیت کا ارتقا مسیح نے ارفع تر مذہب یعنی اسلام کی پیروی کے لئے راستہ ہموار کرنا تھا۔ہمارے اس بیان کو پتھر کی لکیر سمجھ کر اس سے غلط مطلب اخذ کرنا نہیں چاہیے۔ہمارے کہنے کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ یہودی پہلے عیسائیت کو قبول کریں اور پھر اسلام کی طرف قدم بڑھائیں۔اگر ایسا سمجھا جائے تو مذہبی صداقتیں ظاہر ہونے اور ان کے منظر عام پر آنے کے طریق سے متعلق ایسی سمجھ انتہائی سادہ لوحی کی آئینہ دار ہو گی۔ہم جو کچھ کہنے یا بتانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ ایک قوم جس نے ایک ایسے نبی یا پیغمبر کا انکار کر دیا جو ایک عام نبی نہیں تھا بلکہ جس نے ایک ارفع ترصداقت کے ظاہر ہونے سے پہلے اس قوم کی ذہنی اور روحانی تربیت کا اہم کام انجام دینا تھا اس کا ایسے نبی کو مسترد کر دینا اس بات کی علامت ہے کہ وہ قوم ایک گہری نفسیاتی اور روحانی بیماری میں مبتلا ہے۔سو جب تک اس کا یہ مرض دور نہیں ہوتا اور جب تک صداقت کے بارہ میں اس کے بگڑے ہوئے رویہ اور کج روی کی آئینہ دار روش کی اصلاح نہیں ہوتی اس قوم کے بارہ میں اس امر کا امکان بہت کم ہے کہ وہ ایک ایسے نبی کی پیروی کرے جو تعلق جوڑنے والی اس کڑی کے بعد مبعوث ہوا ہے جس کڑی کو وہ پہلے ہی خود اپنے ہاتھوں گنوا بیٹھی ہے۔جہاں تک مسیحیوں کے اپنے رجحان اور طرزِ عمل کا تعلق ہے حضرت محمد رسول اللہ صلی ال نیم کی صداقت تک ان کی رسائی اسی صورت میں ممکن ہو سکتی ہے کہ وہ مسیح کی اصل حقیقت اور صداقت کی طرف واپس لوٹیں۔مسیح انسانوں کو خدا تک پہنچانے والا راستہ ہی نہ تھا بلکہ تمام دوسرے نبیوں کی طرح اس عظیم الشان نبی کی بھی راہ دکھانے والا تھا جس کا اس کے اپنے بعد آنا مقدر تھا۔مسیح کی بیان کردہ تاکستان (انگوروں کے باغ) کی تمثیل میں خود مسیح کی اپنی حیثیت ایک درمیانی کڑی تھی۔اس کی رو سے خدا کی راہ دکھانے والے خدا کے آخری کامل نمونہ ( یعنی مظہر اتم الوہیت) نے ابھی آنا تھا۔پس جب تک عیسائی صاحبان مسیح کے جھوٹ موٹ کے خیالی اور دیو مالائی تصور کو خیر باد کہہ کر اپنے روحانی آقا کی رفیع اور عظیم حقیقت کی طرف واپس نہیں آتے ان کی رسائی اس راستہ تک نہیں ہو سکتی جس راستہ پر چل کر مسیح کی محمد رسول اللہ صلی الی یوم تک رسائی ہوئی تھی۔محمد رسول اللہ صلی ا یکم ایک زندہ و تابندہ حقیقت تھے کہانی یا قصہ نہیں تھے۔اور حقیقتیں ہی دوسری حقیقتوں تک پہنچا سکتی ہیں۔اس لئے مسیح کی کہانی نہیں بلکہ ان کی حقیقت ہی مسیحیوں کو محمد رسول اللہ صلی علی کم کی صداقت کو شناخت کرنے کی سعادت سے بہرہ ور کرے گی۔