مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 140
مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 140 نے مسیحیت کے وجود کو مجتمع حالت میں بر قرار رکھا ہوا ہے اور نہ ان قصے کہانیوں نے اسے عقل اور سائنس کی بڑھتی ہوئی علمی روشنی کے نت نئے چیلنجوں سے بچانے میں اس کی مدد کی ہے اور نہ ہی عجیب و غریب دھندلکوں میں لیٹے ہوئے تثلیث کے عقیدہ نے اسے باقی رکھنے میں کوئی کردار ادا کیا ہے۔جو چیز میسحیت میں پوشیدہ صداقت اور اس کی روح کو بر قرار رکھنے کا موجب ہوئی ہے وہ ہے خود یسوع مسیح کی شخصیت کی دلآویزی اور اس کی حقیقی تعلیم کا باطنی حسن۔یہ بعد میں گھڑی جانے والی مصنوعی اُلوہیت کی آئینہ دار شخصیت نہیں بلکہ یہ انسان مسیح کے حسین اور مقدس و مطہر عمل و کردار کی کشش ہے جو اس کے ساتھ دلوں کی وابستگی کا موجب ہوئی ہے۔نیک مقاصد اور مقدس اُصولوں کی خاطر دکھ اٹھانا اس راہ میں صبر کا اعلیٰ نمونہ پیش کرنا غیر متزلزل عزم و استقلال کا مظاہرہ کرنا اور اصولوں پر سودا بازی نہ کرنے میں تمام آمرانہ اور ظالمانہ کو ششوں کو پر کاہ کے برابر بھی وقعت نہ دینا مسیح کے یہ وہ اعلیٰ و ارفع اوصاف ہیں جنہوں نے مسیحیت کے وجود کے حق میں ریڑھ کی ہڈی کا کام کیا اور جو اس کی پشت پناہ بن کر اسے قائم وبر قرار رکھنے کا موجب ہوئے۔یہ اوصاف آج بھی اسی طرح حسین اور دلکش ہیں جس طرح کہ پہلے تھے۔ان اوصاف نے عیسائیوں کے قلوب و اذہان کو اس قوت سے متاثر کیا کہ وہ آج بھی مسیح کے دامن سے وابستہ چلے آرہے ہیں۔وہ عقائد کی بحثوں میں منطقی استدلال کی واضح خامیوں سے صرف نظر کر سکتے ہیں لیکن مسیح سے تعلق توڑنے پر آمادہ نہیں ہو سکتے۔مسیح کی اصل عظمت کا راز اس حقیقت میں پنہاں ہے کہ اس نے تاریکی کی زبر دست قوتوں کو جنہوں نے اسے ختم کرنے کی سازش کی تھی اور جو اسے کالعدم کرنے پر تلی ہوئی تھیں انہیں محض اور محض ایک انسان ہوتے ہوئے نہ صرف زیر کیا بلکہ ان پر زبردست فتح حاصل کی۔مسیح کی یہ عظیم الشان فتح اس قابل ہے کہ اولاد آدم اس پر فخر کرے اور اس میں اپنے آپ کو شریک سمجھے۔جب ہم اس تمام صورت حال پر وسیع تر اسلامی نقطۂ نگاہ سے نظر ڈالتے ہیں تو مسیح اولاد آدم کے بہت قابل احترام وجو دوں میں سے ایک نظر آتا ہے جس نے اپنے عملی نمونہ سے مصائب و شدائد کا نہایت پامردی اور ہمت و استقلال سے مقابلہ کرنے کا درس دیا۔آزمائشوں اور ابتلاؤں میں گھرے ہوئے ہونے کے باوجود ہمت نہ ہارنا اور حق و صداقت پر مبنی اپنے موقف پر ڈٹے رہنا اور پائے استقلال میں ذرا بھی لغزش نہ آنے دینا وہ عظیم الشان کارنامہ ہے جو مسیح نے انجام دے کر اپنے رنگ میں دنیا کے سامنے ایک مثال قائم کر دکھائی۔یہ اس کی دکھوں بھری زندگی ہی