مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 130
مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 130 سے ”ایک میں تین خدا۔“ اب اگر اس مشکل سے بچنے کے لیے یہ تجویز کیا جائے کہ کہنے کو یہ ہے تو ” تثلیث “ لیکن فی الاصل یہ ہے ایک ایسی اکیلی شخصیت کی طرح جس کے تین مختلف نامیاتی کام ہیں اور وہ سب ایک ہی شخصیت کے ساتھ وابستہ ہونے کے باعث اسی کی ذات میں مجتمع ہیں۔ایسی صورت میں یقیناً وحدانیت کو تو بر قرار رکھا جاسکتا ہے لیکن تثلیث کا کوئی نام و نشان باقی نہیں رہتا لیکن یہاں بہت سے نامیاتی کام انجام دینے والی ایک واحد ہستی کی بات نہیں ہو رہی ہے۔بات ہو رہی ہے اس منظر نامہ میں تین مساوی الحیثیت ہستیوں کی۔ان میں سے ہر ایک بعینہ وہی کام انجام دے رہی ہے جو اس کے دوسرے ساتھی دے رہے ہیں اور بعینہ ایک ہی کام انجام دینے کے باوجود ان میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی انفرادیت برقرار رکھی ہوئی ہے۔جو کچھ ہم یہاں بیان کر رہے ہیں اس سے دراصل تو ایک یعنی اکیلی ہستی کا تصور ہی ابھرتا ہے لیکن وہ ایک ایسی ہستی ہے جس کے مختلف اعضا ہیں۔یہاں تک اتنا ضرور ہے کہ ایسی اکیلی ہستی کے تصور میں کوئی غیر منطقی بات محسوس نہیں ہوتی لیکن جب اس ہستی کے اعضا میں سے ہر عضو کو ایک علیحدہ ہستی یا شخصیت قرار دیا جائے اور ساتھ ہی یہ بھی یقین کیا جائے کہ ان میں سے ہر عضو کی شخصیت اپنی ذات میں ہر طرح مکمل ہے اور ان معنوں میں واحد ، اکیلی اور مکمل ہے کہ وہ کسی احتیاج سے مبرا ہے تو پھر اس سے ایک ایسی صورت حال ابھرتی ہے جہاں منطق اور عقل کی کچھ پیش نہیں جاتی۔اس کی حدود یکسر ختم ہو کر رہ جاتی ہیں اور یہ بحث از اول تا آخر نا قابل قبول بن جاتی ہے۔یہ صحیح ہے کہ اعضا کی بھی اپنی ایک ہستی اور انفرادیت ہوتی ہے لیکن ان کی یہ انفرادیت ایک بڑی شخصیت کا جزو ہوتی ہے کیونکہ اس بڑی شخصیت کا ایک عضو نہیں ہو تا بلکہ اس کے اور بہت سے دوسرے اعضا بھی ہوتے ہیں۔جب ہم کسی انسان کی شخصیت کا ذکر کرتے ہیں۔تو اس کے سارے اعضا اپنی مجموعی حیثیت میں انسان کہلاتے ہیں۔بے شک ان میں سے بعض اعضا چھوٹے اور نسبتاً کم اہم کام کرتے ہیں اور ایک انسان ان اعضا کے بغیر بھی انسان رہ سکتا ہے۔لیکن ایسا انسان اپنی ذات میں نقص اور خامی کا حامل ہوتا ہے۔ایک مکمل انسان کے لئے ضروری ہے کہ اس کے وہ تمام اعضا صحیح حالت میں موجود ہوں جو ایک عام انسان کے ہوتے ہیں۔اور ان کی کارگزار و کار آمد حالت کی مجموعی ہیئت اسے ایک مکمل انسان کہلانے کا مستحق بناتی ہے۔اگر ہم ایک انسان کو بطور مثال لے کر مذکورہ بالا منظر نامہ کی رو سے ابھرنے والی ہستی کو واضح کرنا