مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 129 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 129

129 تثلیث وقت ہم جس منظر نامہ کی رو سے اس فارمولہ کا جائزہ لینا چاہتے ہیں۔وہ یہ ہے کہ تثلیث کے تینوں اجزا یا اقانیم باہم ایک جیسے اور ایک دوسرے کے ہم پلہ ہیں۔ان کے مابین کسی لحاظ سے بھی کوئی فرق ہے ہی نہیں۔اس منظر نامہ میں ہم ایک ایسی شخصیت کی بات نہیں کر رہے جس میں مختلف نوعیت کے خدوخال، خطوط واقواس، نقش و نگار اور اعضا و قوی آجمع ہوئے ہوں بلکہ وہ تین جڑواں بچوں کی طرح تین علیحدہ علیحدہ شخصیتوں کے مالک ہیں۔یہ اس قسم کی تین جڑواں شخصیتیں ہیں کہ ان میں مکمل یکسانیت پائی جاتی ہے۔مکمل یکسانیت سے مراد یہ ہے کہ ان کے مابین پائی جانے والی یکسانیت ان کی شکل و صورت اور بناوٹ تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ ان کی یکسانیت سوچ بچار ، افکار و خیالات اور جذبات و احساسات کے پورے طریق عمل و طریق کار بلکہ ان کو باہم منضبط کرنے والے پورے سلسلہ ہائے نظام تک ممتد ہے۔وہ اپنے افکار و خیالات ، احساسات و جذبات اور تجربات میں الغرض ہر چیز اور ہر بات اور ہر کام میں پوری یکسانیت کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔ایسی صورت میں ہر شخص یہ تسلیم کیے بغیر نہیں رہے گا کہ تثلیث کے تین اجزائے ترکیبی میں سے دو کا وجود محض فالتو ہے۔اگر ان میں سے دو کو ختم بھی کر دیا جائے تو تثلیث میں باقی رہ جانے والا یک جز و یا اقنوم باقی دو کے ختم ہو جانے سے خفیف سا بھی متاثر نہیں ہو گا کیونکہ وہ خود اپنی ذات میں مکمل ہے اور مکمل رہے گا۔قرآن مجید نے بھی ایک رنگ میں اس سوال کو اٹھایا ہے۔جب وہ توجہ دلا تا ہے کہ اگر خدا یسوع مسیح اور روح القدس کو ہلاک اور نابود کرنا چاہے تو کیا فرق پڑ سکتا ہے اس کے جلال و جبروت، اس کی ابدیت اور اس کے کمال لازوال پر اور کون روک سکتا ہے اس کو اگر وہ ایسا کرنا چاہے (18:5) اس سے مراد یہ ہے کہ صفات الہیہ دائمی اور ابدی طور پر اپنا جلوہ ظاہر کرتی رہیں گی۔ان کی جلوہ گری میں کوئی رخنہ یار کاوٹ کبھی اور کسی حال میں پڑ ہی نہیں سکتی۔اس لحاظ سے تثلیث کا نظریہ جو اس منظر نامہ میں پیش کیا گیا ہے سراسر نا معقول اور بلاضرورت ثابت ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ہاں اگر فرض یہ کیا جائے کہ نظریہ تثلیث میں پائی جانے والی تین شخصیتیں تین علیحدہ علیحدہ کام انجام دیتی ہیں ایسی صورت میں ظاہر ہے کہ خدا کی خداوندی کو پورا اور مکمل کرنے کے لئے تینوں اجزا کا وجود لازمی اور ضروری ہو گا لیکن واضح طور پر اس کے ساتھ تین خداؤں کی موجودگی کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا اور یہ بھی ماننا پڑے گا کہ وہ ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہوں گے اور باہم خوب گھل مل کر رہ رہے ہوں گے لیکن ایسی صورت میں انہیں ”تین میں تین“ خدا ہی مانا جائے گا نہ کہ مروجہ عیسائی عقیدہ کی رو