مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 128 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 128

مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 128 لازم پکڑا؟ اگر نہیں تو کیوں؟ شاید یہ سوال اور ان کے واضح اور غیر مہم جواب کبھی نہ کبھی عیسائیوں کو اس اقرار پر مجبور کر دیں گے کہ ”باپ خدا کو تثلیث کے بقیہ دو اجزا پر یقیناً بر تری اور بالا دستی حاصل ہے۔اس سے یہ امر ثابت ہوئے بغیر نہیں رہتا کہ تثلیث کے تین اجزا یا اقانیم بلحاظ مر تبہ ہم پلہ نہیں ہیں۔لہذا اگر وہ تین ہی ہیں تو لاز م وہ تین میں تین ہیں اور یقیناوہ ”ایک میں تین “ نہیں ہیں۔بعض اوقات جب مسیحی صاحبان کو مسیح کے متعلق جسے وہ خدا کا بیٹا یقین کرتے ہیں اس سوال کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ وہ تو خود ”باپ خدا کی عبادت کیا کرتا تھا تو پھر آپ لوگ کیوں مسیح کی عبادت کرتے ہیں تو وہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ وہ تو ”انسان مسیح تھا جو خدا کی عبادت کرتا تھا، ” بیٹے“ نے اپنے ”باپ خدا کی کبھی عبادت نہیں کی۔یہ جواب ہمیشہ پھر اسی بحث کی طرف لے جاتا ہے جو ہم پہلے بھی کر چکے ہیں۔اور وہ یہ ہے کہ کیا دو باشعور ہستیوں نے مسیح کے اکیلے جسم پر قبضہ جمایا ہوا تھا۔ان دو ہستیوں میں سے ایک انسانی شعور کی حامل تھی اور دوسری ہستی اس شعور کی حامل تھی کہ وہ خدا کا بیٹا ہے؟ پھر یہ سوال بھی پیدا ہو گا کہ اس جسم میں موجود انسان نے اسی میں بیک وقت موجود ” خدا کے بیٹے“ کے ساتھ ایک ہی جسم میں موجود تھا، تیسرے اقنوم یعنی روح القدس کی بھی عبادت کرنی چاہیے تھی جو اس نے کبھی نہیں کی۔عبادت فی الاصل ذہن اور روح کے باطنی عمل سے عبارت ہوتی ہے جس کا بعض اوقات جسمانی حرکات و سکنات کی مرکی علامتوں سے بھی اظہار کیا جاتا ہے۔اس نظر آنے والی مرئی اظہار کے باوجود عبادت انسان کے ذہنی اور جذباتی وجود یا ہستی میں جڑ کی طرح پیوست ہوتی ہے لہذا یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ جب مسیح خدا کی عبادت کرتا تھا تو عبادت کا عمل کس سے سرزد ہوتا تھا؟ ہم اس منظر نامہ کو اس کی تمام تر باریکیوں اور پیچیدگیوں کے ساتھ قبل ازیں اچھی طرح کرید اور کھنگال کر ثابت کر چکے ہیں کہ یہ ”خدا کا بیٹا ہی تھا جو خدا کی عبادت کرتا تھا اور اس نے انسان ہوتے ہوئے اپنے ساتھی اور شریک مسیح کی کبھی عبادت نہیں کی۔تو پھر عیسائی صاحبان زمین پر خود یسوع کے اس پاک نمونہ اور اُسوہ کی کیوں خلاف ورزی کرتے ہیں؟ جبکہ انسان یسوع نے اپنے شریک کار مسیح کی اس کے ساتھ اپنی انتہائی قربت کے باوجود کبھی عبادت نہیں کی تو وہ ( یعنی عیسائی صاحبان ) خدا کے ساتھ ساتھ مسیح کی بھی عبادت کیوں کرنے لگتے ہیں؟ یکساں اور مساوی خصوصیات رکھنے والی مختلف ہستیاں تثلیث کے اندر ”ایک میں تین“ کے فارمولا کا اب ہم ایک اور زاویہ نگاہ سے جائزہ لیتے ہیں۔اس