مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 106
مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 106 جب مسیح نے دوسری مرتبہ جسم سے علیحدگی اختیار کی۔اندریں حالات پر غور و فکر اور تحقیق کے دو ہی امکانی راستے کھلتے ہوئے نظر آتے ہیں:۔1۔اول یہ کہ جب مسیح کی روح انسانی جسم میں دوبارہ واپس آئی تو مسیح کی شخصیت دائمی طور پر اس کے ساتھ وابستہ نہ رہی اور یہ کہ اس نے آسمان پر اٹھائے جانے کے دوران انسانی جسم کو پرے پھینک دیا اور وہ خالص خدا کی روح کے طور پر آسمان پر چڑھ گیا۔اس صورت حال کا نہ تو حقائق ساتھ دیتے ہیں اور نہ ہی یہ گمان کیا جاسکتا ہے کہ ایسا ہو ا ہو گا کیونکہ ایسا تصور ایک ایسی بند گلی میں پہنچانے کا موجب بنتا ہے کہ جہاں یہ تسلیم کرنے کے سوا چارہ نہیں رہتا کہ مسیح پر ایک دفعہ نہیں بلکہ دو دفعہ موت وارد ہوئی۔پہلی مرتبہ وہ صلیب پر مرا اور دوسری مر تبہ اسے پھر آسمان پر اٹھائے جانے کے دوران موت کے منہ میں جانا پڑا۔2۔دوسرا رستہ یہ ہے کہ یہ مانا جائے کہ مسیح انسانی جسم کے خول میں دائمی طور پر محد ودو مقید رہا۔اس صورت حال کو بھی تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔یہ ہے ہی کلی طور پر گھناؤنی اور یک قلم رد کر دینے کے قابل کیونکہ ایسی صورت حال خدا کی ہستی کی شان اور جلال و جبروت سے قطعا کوئی مناسبت نہیں رکھتی۔اس کے بالمقابل ایک عقل عمومی کا نقطۂ نظر بھی ہے لیکن یہ سمجھنا بھی غلط ہو گا کہ مسیح کے آسمان پر اٹھائے جانے کو ایک قدیمی خلائی سفر تصور کیا جائے اور آسمان کو سورج، چاند اور کہکشاؤں سے بھی پرے واقع کوئی جگہ مانا جائے، سچائی نہ یہاں ہے نہ وہاں۔8 ایسی انوکھی کہانی گھڑنے کا محرک وہ عقد ولا یخل ہوا ہو گا جس کا مسیحیوں کو مسیحیت کی نوزائیدگی اور ناپختہ کاری کے زمانہ میں واسطہ پڑا ہو گا۔جب مسیح نظروں سے غائب ہو گیا تو قدرتی طور پر یہ سوال اٹھایا گیا ہو گا کہ وہ کہاں غائب ہو گیا اور اس کے ساتھ ہوا کیا؟ ابتدائی مسیحی اس حیرانی اور سرگشتگی کو علی الاعلان یہ کہہ کر تو دور نہ کر سکتے تھے کہ چونکہ وہ مرا نہیں تھا اس لیے پیچھے جسم چھوڑ جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور نہ وہ کہہ سکتے تھے کہ وہ اپنے زندہ جسم کے ساتھ یہاں سے ہجرت کر گیا ہے۔اس اقرار سے جسم کے غائب ہو جانے کا معاملہ آسانی سے حل ہو سکتا تھا لیکن یہ اقرار کرنا ان کے لئے ممکن ہی نہ تھا۔ان میں سے جو بھی اس امر کا اقرار کرنے کی جرات کرتے کہ مسیح زندہ نظر آیا تھا اور رفتہ رفتہ وہ یہودیہ کی حدود سے نکل 8 The Lion Handbook of Christian Belief, Lion London (1982), p۔120۔