مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 104 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 104

میسحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 104 ذکر نہ پاکر انسان حیرت میں پڑے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ایسی فروگزاشت ان سے ہو کیسے سکتی تھی۔اور اگر ہوئی تو کیوں ہوئی ؟ دوسری دو نسبتا مختصر انا جیل جن میں آسمان پر اٹھائے جانے کا ذکر ملتا ہے وہ ہیں مرقس اور لوقا کی انا جیل: 1۔غرض خداوند یسوع مسیح ان سے کلام کرنے کے بعد آسمان پر اٹھایا گیا اور خدا کی دہنی طرف بیٹھ گیا۔“ (مرقس باب 16 آیت 19) 2۔”جب وہ انہیں برکت دے رہا تھا تو ایسا ہوا کہ ان سے جدا ہو گیا اور آسمان پر اٹھایا گیا۔“ (لو قاباب 24 آیت 51) 4 تاہم ٹھوس سائنسی بنیادوں پر کی جانے والی فاضلانہ تحقیق کے نتیجہ میں یہ امر پایہ ثبوت کو پہنچ چکا ہے کہ ان دونوں اناجیل میں آسمان پر اٹھائے جانے کا جو ذکر آتا ہے وہ الحاقی ہے یعنی بعد کے زمانہ میں کسی نے اس کا ان میں اضافہ کر دیا۔ابتداء میں مرقس اور لوقا نے خود جو اصل متن مرتب کیا تھا اس میں یہ آیات سرے سے موجود ہی نہیں تھیں۔وہ مخطوطہ جو کو ڈیکس سینی آئیکس(Codex Siniaticus) کہلاتا ہے چوتھی صدی عیسوی کا ہے اور اسے عہد نامہ قدیم و جدید کا قدیم ترین متن تسلیم کیا جاتا ہے۔یہ مخطوطہ خود اپنی ذات میں اس حقیقت پر گواہ ہے کہ مرقس اور لوقا دونوں کی اناجیل میں مذکورہ آیات آغاز کار مرتب ہونے والے اصل اور مستند نسخہ میں شامل نہ تھیں اور یقیناً کسی کاتب یا نقل نویس نے بہت بعد کے زمانہ میں اپنی مرضی سے ان کا اضافہ کر دیا۔Codex Siniaticus کے مخطوطہ میں مرقس کی انجیل باب 16 کی آیت 8 پر ختم ہو جاتی ہے۔اب تو اس حقیقت کو بائبل کے بعض جدید ایڈیشنوں میں بھی تسلیم کر لیا گیا ہے۔5 اس قدیم ترین مخطوطہ میں لوقا کی انجیل کے باب 24 کی آیت 51 میں ”آسمان پر اٹھالیا گیا“ کے الفاظ موجود نہیں ہیں۔متن کے محقق اور تجزیہ نگار سی۔ایس۔سی۔ولیمز (C۔S۔C۔Williams) کے نزدیک اگر (Codex Siniaticus) کے مخطوطہ میں ان کا موجود نہ ہونا درست ہے تو انا جیل کے اصل ابتدائی متون میں مسیح کے آسمان پر اٹھائے جانے کا سرے سے کوئی ذکر ہی موجود نہ تھا۔6 4 Pg۔18, Jesus: the Evidence by Ian Wilson (1984) 5 (Holy Bible New International Version (1984) by International Bible Society p۔1024) 6 (Secrets of Mount Sinai, The Story of Finding the World's Oldest Bible-Codex Sinaiticus by James Bentley p۔131)