مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 95
95 زندگی کی بحالی یا احیائے موتی؟ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم اس کا موازنہ اس امر سے کرتے ہیں کہ مسیح صلیب کے بعد جب جلد ہی نظر آیا تو ابتدائی مسیحیوں نے اپنی اس رؤیت کا کس رنگ میں ذکر کیا۔اگر پولوس سمجھتا تھا کہ مسیح حشر نشر کے طور پر جی اٹھا تھا تو اس نے جب مسیح کو دیکھا اور اس سے باتیں کیں تو اس کی اس رؤیت کو اسی رنگ کی رؤیت سمجھا جاسکتا تھا جس طرح کہ ایک وفات یافتہ شخص کی روح دوسری دنیا سے آکر اس دنیا میں ایک سائے یا ایسی شکل و شباہت کے طور پر نظر آتی ہے جیسی کہ مرنے سے پہلے اس کی ہوتی تھی لیکن ابتدائی مسیحیوں کی رؤیت اور اس نوع کی رؤیت میں بہت فرق ہے۔اس طرح دو قسم کی شہادتوں کے باہم اکٹھا ہو جانے سے عجب الجھاؤ سا پیدا ہو جاتا ہے کہ کس کو صحیح مانا جائے اور کس کو غلط۔ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم پہلے اس شہادت کو زیر غور لائیں جو خود مسیح کے شاگردوں نے دی اور ان لوگوں نے دی جو اگر چہ مسیحیت میں داخل نہ بھی ہوئے ہوں لیکن جو اس سے محبت کا تعلق رکھنے اور اس کا بہت احترام کرنے والے تھے۔اولیت اور فوقیت کا درجہ رکھنے والی اس شہادت کو پولوس نے غلط رنگ میں سمجھا ہو گا کیونکہ یہ شہادت تو مسیح کے اپنے مادی جسم کے ساتھ زندہ انسانی شکل میں نظر آنے کا ذکر کرتی ہے۔ایسی حالت کو حشر نشر کے طور پر جی اٹھنے سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔اس کے ثبوت کے طور پر اس اصل واقعہ کا ذکر ہی کافی ہے کہ جب مسیح نے واقعۂ صلیب کے بعد جلد ظاہر ہو کر اپنے بعض شاگردوں کو حیرت میں ڈال دیا تھا۔چنانچہ لکھا ہے: ”انہوں ( یعنی شاگردوں) نے گھبرا کر اور خوف کھا کر یہ سمجھا کہ کسی روح کو دیکھتے ہیں۔اس نے (یعنی مسیح نے) ان سے کہا تم کیوں گھبراتے ہو ؟ اور کس واسطے تمہارے دل میں شک پیدا ہوتے ہیں؟ میرے ہاتھ اور میرے پاؤں دیکھو کہ میں ہی ہوں۔مجھے چھو کر دیکھو کیونکہ روح کے گوشت اور ہڈی نہیں ہوتی جیسا مجھ میں دیکھتے ہو۔اور یہ کہہ کر اس نے انہیں اپنے ہاتھ اور پاؤں دکھائے۔جب مارے خوشی کے ان کو یقین نہ آیا اور تعجب کرتے تھے تو اس نے ان سے کہا کیا یہاں تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے؟ انہوں نے اسے بھنی ہوئی مچھلی کا قبلہ دیا۔اس نے لے کر ان کے روبرو کھایا۔“ (لوقا باب 24 آیات 37 تا 43) یہ واقعہ حشر نشر کے طور پر جی اٹھنے کے نظریہ کی واضح اور قطعی طور پر تردید کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ مسیح نے ضروری سمجھا کہ انہیں کسی ابہام کے بغیر واضح طور پر مشاہدہ کرائے کہ میں وہی شخص یعنی مسیح ہوں اور ہوں بھی بعینہ اپنے اسی جسم کے ساتھ۔محض روح کے روپ میں نہیں ہوں اور نہ ہی میں ایسا وجو د ہوں