مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 70 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 70

مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 70 70 پانے سے بیچ نکلے تو حکومت وقت ایسے ”مجرم کو قانونی تحفظ فراہم نہیں کر سکتی۔اسی طرح رومی قانون کے تحت مسیح صلیب سے بچ نکلنے کے بعد کسی لحاظ سے بھی قانونی تحفظ کا حق دار قرار نہیں پاسکتا تھا۔اس صورت حال نے مسیح کے لئے بجز اس کے کوئی راہ نہ چھوڑی کہ وہ رومی علاقہ سے نکل کر کسی ایسے علاقے میں چلا۔جائے جہاں وہ آزادی سے رہ سکے۔لیکن صرف جان کی حفاظت ہی تو مسیح کا مقصد نہیں تھا۔خدا تعالیٰ کی طرف سے تفویض کردہ ایک فرض کی ادائیگی بھی اس کے ذمہ تھی۔پہلے سے کی گئی پیش گوئی کی رو سے وہ فرض اسی کے ذریعہ پورا ہونا تھا۔اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑیں (مراد بعض یہودی قبائل ہیں) بابلی اور رومی حملوں کے بعد ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئی تھیں اور بکھر کر متعدد مشرقی علاقوں کی زمینوں میں پھیل گئی تھیں اور وہ بھی اپنی جگہ مسیح کی آمد ثانی کی منتظر تھیں۔یہ ایک اور بڑی وجہ تھی جس کی رو سے مسیح کے لئے ضروری تھا کہ وہ یہودیہ کی سر زمین کو خیر باد کہہ کر ان سب علاقوں اور سر زمینوں کی طرف ہجرت کر جائے جہاں جہاں گزشتہ کئی صدیوں کے دوران یہود قبائل جا آباد ہوئے تھے۔احمد یہ نقطہ نظر کے بارہ میں سر دست اتنا ہی بیان کر دینا کافی ہو گا۔بعض لوگ ہم احمدیوں سے دریافت کرتے ہیں کہ اس امر کا کیا ثبوت ہے کہ مسیح صلیبی موت سے بیچنے کے بعد طبعی موت سے فوت ہوا تھا۔اب یہ امر ظاہر وباہر ہے کہ وہ کوئی جواز پیدا کیے بغیر ثبوت فراہم کرنے کی ذمہ داری بلاوجہ ہم پر عائد کر رہے ہیں۔قدرت کے بعض مظاہر ایسے ہوتے ہیں جن سے ہما شاہر کوئی واقف ہوتا ہے۔حتی کہ روئے زمین کے تمام انسانوں کے مشاہدہ میں وہ آرہے ہوتے ہیں اور ان کے لیے سرے سے کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہوتی۔یہ ہم سب جانتے ہیں کہ دنیا میں ایک انسان کا عرصہ حیات حد سے حد ڈیڑھ صد سال یا اس کے لگ بھگ سے زیادہ نہیں ہو تا۔یقیناً اس ضمن میں ہزار سال یا اس سے زیادہ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔زمین پر کسی بھی انسان واحد کے عرصہ حیات سے متعلق شخص عمومیت کا حامل یہ ایک ایسا تجربہ ہے جس میں جملہ بنی نوع انسان برابر کے شریک ہیں۔اب اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ استثناء کے رنگ میں اس قاعدہ کلیہ سے ہٹ کر کوئی بات واقع ہوئی ہے تو اس کا بار ثبوت اس استثناء پر یقین رکھنے والے کے کندھوں پر ہو گا نہ کہ اس کے کندھوں پر جو بہر طور مسلمہ قاعدہ کلیہ پر پورا پورا یقین رکھتا ہے اور کسی استثنا کا سرے سے قائل ہی نہیں ہے۔بار ثبوت کا اطلاق تو اس مخصوص صورت حال پر ہونا چاہیے جس نے عیسائیوں کے عقیدہ کی رو سے مسیح کی زندگی اور موت کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔جو لوگ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ وہ آج تک فوت نہیں ہوا ان پر یہ لازم آتا ہے کہ وہ اس کا ثبوت مہیا