مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 17 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 17

باب دوم گناہ اور کفارہ اب ہم مسیحیت کے دوسرے بہت ہی اہم رکن کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔تاہم میں ایک بات شروع میں ہی واضح کر دینا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اس دوسرے رکن کی جو تفصیل یہاں بیان ہو گی وہ ہوگی تو مستند عیسائی کتب سے ماخوذ لیکن اب سارے کے سارے عیسائی حضرات اس پر من و عن اسی طرح ایمان نہیں رکھتے۔بعض جداگانہ کلیسیائی نظاموں سے تعلق رکھنے والے فرقے ایسے بھی ہیں جو اس بارہ میں اصل کلیسیا کی درشت اعتقادی روش سے متفق نہ ہوتے ہوئے اس روش سے قدرے ہٹ گئے ہیں اور انہوں نے اپنے رویہ میں کسی قدر نرمی پیدا کر لی ہے۔اس کے باوصف یہ بات اپنی جگہ سولہ آنے درست ہے کہ ”گناہ اور کفارہ “ کے عقیدہ میں کار فرما فلاسفی کو مسیحی مذہب میں راسخ الاعتقادی کے اعتبار سے بنیادی اصول یار کن رکین کی حیثیت حاصل ہے۔گناہ اور کفارہ " کی مسیحی تفہیم اور اس کی تشریح کے اجزائے ترکیبی میں سے پہلا جزو یہ ہے کہ خدا بہر حال منصف مزاج اور عدل پرور ہے۔وہ کانٹے کی تول پورے اور بہر طور پر مکمل انصاف کا نفاذ ضرور عمل میں لاتا ہے۔وہ ازروئے عدل پوری سزا دیئے اور عدل کا تقاضا عملاً پورا کیے بغیر انسانوں کے گناہ معاف نہیں کیا کرتا کیونکہ اگر وہ ایسانہ کرے یعنی سزا دیئے بغیر ہی گناہ بخش دیا کرے تو اس کا یہ فعل عدل کا خون کرنے کے مترادف ہو گا۔مسیحیوں کے نزدیک خدا تعالیٰ کی صفت عدل اس امر کو ناگزیر اور لائڈی بنادیتی ہے کہ کفارہ اور مسیحی نظریہ کو سو فیصد درست تسلیم کیا جائے۔گناہ اور کفارہ کی مسیحی توجیہ کا دوسرا جزو یہ ہے کہ انسان گناہ گار ہے یعنی وہ پیدا ہی گناہ گار ہوتا ہے۔وجہ اس کی یہ بیان کی جاتی ہے کہ آدم اور حوا کے پہلے اور ابتدائی گناہ کی وجہ سے ان کی نسل کو گناہ ورثہ میں ملنا شروع ہوا اور اس وقت سے ملتا چلا آرہا ہے۔یعنی نسل آدم کے توارثی جرثوموں(Genes) میں گناہ منتقل ہو تا چلا گیا۔یہی وجہ ہے کہ اس وقت سے ہی آدم کی تمام اولاد فطر تا گناہگار پیدا ہوتی چلی آرہی ہے۔اس عقیدہ کا تیسرا جزو یہ ہے کہ ایک گناہ گار انسان دوسرے گناہ گار انسان کا کفارہ ادا نہیں کر سکتا۔