مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 9
9 ابنیت مسیح کی اصل حقیقت ہیں۔خد اتعالیٰ جب اپنی قدرت کاملہ کی کوئی نئی بجلی ظاہر کرتا ہے تو اس وقت انسان کو بظاہر کسی معلومہ قانون قدرت کی خلاف ورزی ہوتی نظر آتی ہے لیکن فی الاصل ایسا نہیں ہو رہا ہوتا وہ نئی تجلی ایک ایسے قانون قدرت کے تحت ظہور میں آتی ہے جو ظہور کے وقت ان معنوں میں انسان کی نظر سے پوشیدہ ہوتا ہے کہ ابھی اسے اس کا علم نہیں ہوا ہو تا۔خدا تعالیٰ اپنے ارادہ، حکم اور تصرف سے اس قانون قدرت کو رو بعمل لے آتا ہے۔اس زمانہ کے لوگ اسے سمجھ نہیں پاتے کیونکہ وہ اس وقت تک ان کے فکر اور علم کی رسائی سے بالا ہوتا ہے۔مثال کے طور پر چند ہزار سال پہلے تک انسان کو مقناطیسی قوت کا کوئی علم نہ تھا۔اگر اس زمانہ میں کوئی شخص اسے اتفاقی طور پر دریافت کر لیتا اور کوئی ایسی ترکیب نکال لیتا جس سے وہ بعض چیزوں کو ہوا میں کھینچ کر دکھا سکتا۔اور دوسرے لوگوں کو بظاہر اس کا کوئی ایسا سبب نظر نہ آتا جسے وہ اپنی نگی آنکھ سے دیکھ سکتے تو وہ شخص سب لوگوں کو یہ کہہ کر دیکھو! میں تمہیں ایک معجزہ دکھاتا ہوں ورطہ حیرت میں ڈال سکتا تھا۔آج ایسے کر تب سب کو معمولی نظر آتے ہیں اور وہ انہیں روز مرہ مشاہدہ میں آنے والی عام چیزیں محسوس ہوتی ہیں۔انسان کا علم بظاہر خواہ کتنا ہی وسیع کیوں نہ ہو بہر حال محدود ہوتا ہے جبکہ علم الہی کی کوئی انتہا نہیں ہوتی۔اس لئے جب کوئی ایسا قانون قدرت رو بعمل آجائے جو انسان کے اپنے محدود دائرہ علم سے باہر ہو تو وہ اسے معجزہ کی طرح ہی نظر آتا ہے۔لیکن جب بعد ازاں مزید علم حاصل ہونے پر ہم پیچھے مڑ کر انہی چیزوں پر دوبارہ نظر ڈالتے ہیں تو ہم قوانین کی ایسی تمام نام نہاد خلاف ورزیوں کو یہ کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں کہ وہ سب تو قدرتی مظاہر تھے جنہیں اس زمانہ کے لوگ اپنی لا علمی سے سمجھ نہیں سکے تھے اسی لئے میں نے کہا کہ مسیح کی بن باپ ولادت قدرت خداوندی کا ایک مظہر ہی تھی۔یعنی بعض قوانین قدرت کی کار فرمائی کے نتیجہ میں ہی ایسا ظہور میں آیا تھا جن کا اس زمانہ کے لوگوں کو قطعا کوئی علم نہ تھا اور آج کے زمانہ کے لوگوں کو بھی جزوی علم کے سوا اس کا پورا علم ابھی حاصل نہیں ہو سکا ہے۔البتہ سائنسی بنیادوں پر اس سمت میں مسلسل پیش رفت ہو رہی ہے اور معلومات میں مسلسل اضافہ ہو تا چلا آرہا ہے۔اس لحاظ سے ایک وقت ایسا آسکتا ہے کہ جب کوئی شخص بھی یہ نہیں کہہ سکے گا کہ مسیح کی پیدائش قانون قدرت سے ماورا ایک معجزہ کی حیثیت رکھتی تھی۔جو لوگ آج یہ کہتے ہیں انہیں بالآخر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ شاذ کے طور پر رونما ہونے والا ایک قدرتی واقعہ تھا یعنی تھا تو یہ ایک قدرتی واقعہ ہی لیکن تھا اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایسا کمیاب کہ انسانی تجربہ کی رُو سے ایسا بہت کم ہوا کرتا ہے۔