مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page xvii
مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک xvi میں منوسمرتی کی ہند و تعلیمات ایسی ہیں کہ ان معاشروں کے لئے ان پر عمل نہ کر نا ہی ان کے حق میں نیک فال کی حیثیت رکھتا ہے۔نیز بعض معاشروں کا عقیدہ توفی ذاتہ اچھا ہوتا ہے اور اس پر کما حقہ عمل پیراہونا فائدہ مند ہوتا ہے لیکن خود لوگوں کے اندر بے اعتدالیوں کی وجہ سے بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے اور وہ عقیدہ کو مشکل اور مالا يطاق سمجھ کر اس کے بارہ میں سنجیدہ نہیں رہتے اور اسے عملا ترک کر بیٹھتے ہیں۔مسیحیت کے موضوع کی طرف واپس لوٹتے ہوئے ہم جس بات کا اظہار کرنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ مسیحیت کے بنیادی عقائد ہی نظام قدرت کی اصل حقیقتوں سے متصادم ہیں۔بنابریں وہ معقولیت پسندی اور عقل عمومی پر مبنی انسانی توقعات سے مطابقت نہیں رکھتے۔اس صورت حال کے تناظر میں مسیحیوں کے لئے یہ ناگزیر تھا کہ وہ رفتہ رفتہ اپنے عقائد کو سنجیدگی سے لینے کی روش اور ان عقائد کے وضع کردہ سانچوں کے مطابق اپنی زندگیاں ڈھالنے کے عزم سے منحرف اور بیگانہ ہوتے چلے جائیں۔سو ہم دیکھتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا۔