مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 122
مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 122 بغیر ان مختلف حیثیتوں کا بیک وقت اظہار نہیں کر سکتی۔مثال کے طور پر ایک خاص پیمانہ یا مقدار میں پانی ہی کو لے لیں۔اس پانی کی ہستی کی اکائی یا وحدانیت پر اثر انداز ہوئے بغیر اسے مکمل طور پر بخارات یا برف میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔لیکن اگر اسے ان مختلف شکلوں اور حیثیتوں میں بیک وقت دیکھنا مطلوب ہو تو پھر اسے تقسیم کرنا ضروری ہو جائے گا تاکہ اس کا ایک تہائی برف بن سکے۔ایک تہائی بخارات میں تبدیل ہو سکے اور ایک تہائی اپنی سیال شکل ہی بر قرار رکھے۔ہر شکل دوسری شکل سے مختلف ہو گی اور کوئی ایک شکل بھی بیک وقت بقیہ دوسری شکلوں یا حیثیتوں میں شریک نہیں ہو سکے گی۔پانی کی مقدار کو تین حصوں اور ان کی تین حالتوں میں تقسیم کر دیا جائے گا لیکن ہر ایک کا حجم پانی کی مقدار سے کم یا چھوٹاہو گیا۔کوئی ان کو ”تین میں ایک اور ”ایک میں تین ” نہیں کہہ سکتا۔اسی طرح مسیح کا یسوع کی انسانی شکل میں تجسم اختیار کرنا اور پھر انسان یسوع اور ”باپ خدا کے درمیان تعلق میں فرق نہ آنے دینا اور اس بندھن کو پورے طور پر بر قرار رکھنا ایک ایسی بات ہے جسے تصور میں لانا ممکن نہیں ہے۔تمام بنی نوع انسان ایک ہی قسم کے عناصر سے بنے ہوئے ہیں لیکن بلحاظ عناصر ان کی باہمی یکسانیت اور بلحاظ نوع ان کی یکساں حیثیت انہیں ایک ہی شخص یعنی فرد واحد یا ایک ہی شخصیت میں نہیں ڈھال دیتی۔باہمی یکسانیت کے باوجود وہ باہم ہوتے ایک دوسرے سے الگ ہی ہیں۔اگر چہ وہ بنیادی طور پر ایک ہی مادہ کے بنے ہوئے ہوتے ہیں لیکن ان کے کردار، ان کی انفرادیتیں اور ان کی جداگانہ حیثیتیں انہیں لا تعداد شخصیتوں میں بانٹ دیتی ہیں۔اس کے باوجود کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ ” پانچ ارب میں ایک “ اور ”ایک میں پانچ ارب “ ہیں۔آئیے اب ہم اسی سوال کا ایک اور زاویہ نگاہ سے جائزہ لیتے ہیں۔اگر وقت یا زمانہ کی ایک مقررہ مدت میں یسوع ایک طرف ”باپ خدا سے اور دوسری طرف روح القدس سے یکسر مختلف تھا اور ان کے درمیانی امتیاز قطعی واضح تھا تو مسیح کی امتیازی رنگ میں واضح اور قطعی طور پر وہ علیحدہ اور جداگانہ ہستی اور موجودگی کس حساب کتاب میں شمار ہو گی اور کس جدا گانہ کھاتہ میں ڈالی جائے گی ؟ یاد رہے کہ اس حالت میں مسیح کو ”باپ ” اور روح القدس سے اس قدر کلی طور پر مختلف علیحدہ اور بے تعلق سمجھنا پڑتا ہے کہ کوئی نسبت اور مماثلت ہی باقی نہیں رہتی۔اور ایسا اس لئے سمجھنا پڑتا ہے تاکہ بنی نوع انسان ( یایوں کہہ لیں کہ اپنے جزوی انسانی بھائیوں) کی خاطر اس کی جانی قربانی کلی طور پر اس کا اپنا ذاتی تجر بہ شمار ہو سکے۔اس کے بغیر یہ نتیجہ نکل ہی نہیں سکتا کہ ہم یہ باور کریں کہ مسیح نے اکیلے ہی اپنے ذہن یا سلسلہ خیالات اور اس کے