مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 110 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 110

مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 110 کرتے ہوئے بڑی صحت کے ساتھ یہ باور کیا جاسکتا ہے کہ کشمیر اور ہندوستان کے بعض دوسرے علاقوں کی طرف جاتے ہوئے وہ افغانستان میں سے بھی گزرا ہو گا کیونکہ ان سب علاقوں میں ان قبائل کی موجودگی کی اطلاعات پہلے سے موجود تھیں۔اس امر کی بڑی پختہ تاریخی شہادت موجود ہے کہ افغانستان اور کشمیر دونوں میں آباد قومیں یہودیوں کے ہجرت کر جانے والے قبائل کی نسل سے ہیں۔حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے اس امر کا انکشاف فرمایا کہ بالاآخر مسیح نے کشمیر میں وفات پائی اس کے شہر سری نگر میں مدفون ہوا۔جب احمدی حضرات اس علاقہ سے جہاں مسیح پیدا ہوا تھا جس مسیح کے غائب ہو جانے کا حقائق پر مبنی معقول اور اثر آفریں حل پیش کرتے ہیں تو اکثر ان کی بات کو یہ کہہ کر رد کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ یہ مان بھی لیا جائے کہ مسیح صلیب پر سے زندہ اتر آیا تھا پھر بھی یہ انتہائی بعید از قیاس ہے کہ اس نے یہودیہ سے کشمیر تک کا جان جوکھوں میں ڈالنے والا پر خطر سفر اختیار کیا ہو۔تردیدی رنگ میں دیئے جانے والے اس عجیب جواب پر احمدی حیران رہ جاتے ہیں کہ فلسطین سے کشمیر تک کا فاصلہ اور زمین سے لے کر آسمان کی انتہائی دور دراز کی پہنائیوں تک کا فاصلہ۔ان دونوں میں سے کون سا فاصلہ زیادہ لمبا ہے۔پھر احمد ی اس بات پر بھی حیران ہوئے بغیر نہیں رہتے کہ مسیح کے اس وعدہ کا کیا بنا کہ وہ اسرائیل کے گھرانے کی گمشدہ بھیٹروں کی تلاش میں ضرور جائے گا۔اگر وہ فلسطین سے سیدھا روانہ ہو کر اپنے ”باپ خدا“ کے دائیں ہاتھ جا بیٹھا تو کیا وہ اپنے اس عہد و پیمان کو بھول گیا تھا یا کہیں ایسا تو نہیں تھا کہ اپنے اس وعدہ کو نبھانا اور پورا کرنا اس کے لئے ناممکنات میں سے تھا ؟ ماننا پڑے گا کہ یا تو یہ بات تھی یا پھر (جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں) توقع کے رنگ میں یہ سمجھ لیا جائے کہ اسرائیل کے گھرانے کی گمشدہ بھیڑیں پہلے ہی آسمان پر جاچڑھی تھیں اور ان کی تلاش میں پیچھے پیچھے مسیح بھی وہاں جا پہنچا؟ قریب المرگ لوگوں میں زندگی بحال ہونے کے بعض واقعات جو لوگ اس منظر نامہ کو کہ مسیح صلیب پر سے زندہ اتر آیا دور از قیاس قرار دے کر اسے ناقابل قبول سمجھتے ہیں ہم ان کی توجہ اس حقیقت کی طرف دلاتے ہیں کہ تاریخ میں بہت سے ایسے لوگوں کا ذکر آتا ہے جو انتہائی خطرناک صورت حال پیدا ہو جانے کے باوجود خلاف توقع موت کے منہ سے بچ نکلے اور زندہ سلامت رہے۔مسیح کو پیش آمدہ جو صورت حال ہم نے بیان کی ہے وہ نہ تو نو کھی اور نرالی ہے اور نہ ایسی کہ اسے قبول کرنا نا ممکنات میں سے ہو۔طبی نقطۂ نگاہ سے ریکارڈ شدہ ایسے بہت سے مصدقہ واقعات موجود ہیں