مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 109 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 109

109 زندگی کی بحالی یا احیائے موتی؟ احمدی مسلمانوں کا نقطۂ نظر مسیح کے مفقود الخبر ہو جانے اور اس کے اتنہ پسند کے متعلق احمدی مسلمانوں کا نقطۂ نظر بالکل واضح ہے اس لئے کہ وہ منطقی استدلال پر پورا اتر نے والا اور حقائق پر مبنی ہے۔یہ نقطۂ نظر مسیح کی شخصیت کو اور جو کچھ اس کے ساتھ پیش آیا اسے حقائق کی روشنی میں پیش کرتا ہے۔اس کے گرد حق و صداقت کا نورانی ہالہ بناہوا ہے۔یسوع مسیح کی حقیقت خود اپنی ذات میں اس قدر حسین ہے کہ اس کے گرد کسی بھید اور راز کا سجا سجایا مرصع سنہری جال بننے کی ضرورت ہی نہیں۔زندگی بھر وہ گنہگار اور خطاکار انسانوں کو راہ راست پر لانے کی خاطر دکھ اٹھاتا اور مصیبتیں جھیلتا رہا حتی کہ اس کا دکھ اٹھانا صلیب پر لٹکائے جانے کی صورت میں اپنے عروج کو جا پہنچا۔جیسا کہ خدائے قادر و کریم نے وعدہ کیا تھا اسے صلیب کی مصیبت سے نجات ملی یعنی وہ صلیب سے اس حال میں اتارا گیا کہ ہنوز زندہ تھا۔بعد ازاں وہ اسرائیل کے دس گمشدہ قبائل کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا اور وہاں سے ہجرت کر گیا۔اس طرح اس نے خدا کا پیغام نہ صرف ان قبائل تک پہنچایا جن سے وہ واقعۂ صلیب سے قبل ہم کلام ہوا بلکہ وہ اسرائیل کے تمام دوسرے قبائل تک بھی پہنچا اور اس طرح خدا کی طرف سے جو ذمہ داری سونپی گئی تھی اسے کما حقہ ادا کر دکھایا۔جب یہ ذمہ داری پورے طور پر ادا ہو گئی تب کہیں جاکر اس کی بعثت کی غرض یہ تمام و کمال پوری ہوئی۔یہ ہیں مستحسن اور رفیع الشان حقیقتیں مسیح کی زندگی کی جو خدا کے ایک بچے رسول کی حیثیت سے اس کی عظمت و صداقت کی آئینہ دار ہیں۔بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے آج سے قریباً ایک سو سال قبل اس امر کا اعلان فرمایا کہ مسیح خدا کا ایک سچار سول تھا۔جیسا کہ اس نے اپنے ابتدائی مواعظ میں اشارہ کیا تھا وہ صلیبی موت سے بچایا گیا۔حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے جنہیں خدائی رہنمائی کا شرف حاصل تھا اسلام کی تاریخ میں پہلی بار مسیح کی زندگی کے روشن حقائق پر پڑے ہوئے پر اسرار پر دوں کو اٹھایا۔یہ آپ ہی تھے جنہوں نے فرسودہ اور دور از کار خیالات و نظریات رکھنے والے مسلمانوں کی طرف سے اظہار ناپسندیدگی و ناراضگی کے علی الرغم بر ملا یہ اعلان کیا کہ مسیح نہ تو صلیب پر فوت ہوا تھا اور نہ ہی جسد عنصری کے ساتھ آسمان پر اٹھایا گیا تھا بلکہ خدائی وعدہ کے عین مطابق اسے معجزانہ طور پر صلیب پر سے زندہ بچالیا گیا تھا۔اس کے بعد جیسا کہ اس نے خود وعدہ کیا تھا وہ اسرائیل کے گھرانے کی گمشدہ بھیڑوں کی تلاش میں وہاں سے ہجرت کر گیا۔اسرائیلی قبائل کی ہجرت کے ممکنہ راستہ ذہن میں رکھتے اور اس کا تعاقب